شام کے لیے روسی آئین کو سب کے سامنے پیش کریں گے : لاؤروف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

روس کی دعوت پر ماسکو میں منعقد ہونے والا اجلاس جمعے کی صبح شروع ہوا۔ اجلاس میں روس کے علاوہ شامی اپوزیشن کی شخصیات نے شرکت کی۔ افتتاحی خطاب میں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف نے بتایا کہ شام کے حوالے سے جنیوا میں مقررہ بات چیت 8 فروری سے بڑھا کر اگلے ماہ کے آخر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ 23 جنوری کو آستانہ میں ہونے والی بات چیت نے جنیوا مذاکرات کے لیے اقوام متحدہ کی تیاری میں مدد دی۔

روس کی جانب سے شام کے لیے نئے آئین کے مسودے کے اعلان کے بعد جمعرات کے روز میڈیا میں جدل برپا ہو گیا تھا۔ لاؤروف نے اس حوالے سے کہا کہ شام کے نئے آئین پر کام کرنا ناگزیر ہے اور ماسکو نے اس حوالے سے جو کچھ پیش کیا وہ شام کی مشترکہ تقسیم اکائیوں کو جمع کرنے کے مترادف ہے۔

اس سلسلے میں ہونے والی تنقید اور نکتہ چینی کا جواب دیتے ہوئے لاؤروف نے باور کرایا کہ تمام شامی فریقوں کی کوآرڈی نیشن کے بغیر کوئی آئین نافذ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس آئین کا مسودہ تمام شامی فریقوں کو پیش کرے گا۔ تاہم انہوں نے یہ متعین نہیں کیا کہ ان فریقوں سے ان کی مراد "ماسکو ملاقات میں موجود" گروپ ہیں۔

شامی دستور کے حوالے سے روسی مسودے میں شامی ریاست کو عرب ظاہر کرنے والے لفظ کو حذف کر دیا گیا تھا۔ اس کےعلاوہ عام ریفرنڈم کے ذریعے ریاست کی حدود میں تبدیلی کا اختیار اور پارلیمنٹ کو اضافی اختیارات بھی پیش کیے گئے جن میں اہم ترین ریاست کے صدر کو سبک دوش کرنا ہے۔

لاؤروف کے مطابق جنیوا ملاقات سے قبل تمام شامیوں کو اس منصوبے سے مطلع ہونا چاہیے۔

سپریم کمیٹی اور الائنس کا شرکت سے انکار

شامی اپوزیشن میں شامل مذاکرات کی سپریم کمیٹی اور سیریئن الائنس کے ذمے داران نے جمعے کے روز ماسکو میں روسی وزیر خارجہ سے ملاقات کی دعوت کو مسترد کر دیا تھا۔ شامی اپوزیشن اور انقلابی فورسز کے میڈیا ترجمان احمد رمضان کے مطابق یہ دعوت "ذاتی نوعیت کی زبانی اور غیر واضح تھی"۔ شامی الائنس نے روس پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ آئندہ ماہ جنیوا کانفرنس میں اپوزیشن کی نمائندگی کے لیے اپنے نزدیک شخصیات پر مشتمل وفد تشکیل دینے کے لیے کام کر رہا ہے۔

"ماسکو کی شام میں سیاسی حل کے مراجع تبدیل کرنے کی کوشش "

سیریئن الائنس میں شامل شخصیات نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماسکو شام میں سیاسی حل کے مراجع تبدیل کرنے اور عبوری مرحلے کے معاملے کو گھمانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان شخصیات کے مطابق روس نے آستانہ اجلاسوں میں فریب سے کام لیا۔ یہ اجلاس عسکری معاملات کے لیے مخصوص تھے جن میں اپوزیشن وفد کو آئین کا مسودہ پیش کردیا گیا۔

قاہرہ اور ماسکو کے پلیٹ فارم اور کرد یونین پارٹی

ذرائع کے مطابق روس نے ماسکو ، قاہرہ اور آستانہ کے پلیٹ فارموں کی نمائندگی کرنے والی شخصیات کو دعوت دے دی ہے۔ ان میں نمایاں ترین قدری جميل ، جمال سليمان ، جهاد المقدسی ، اور رندہ قسيس کے علاوہ شام کی الغد پارٹی کے سربراہ احمد الجربا اور بلڈنگ دی سیریئن اسٹیٹ کے سربراہ لؤئی حسين ہیں۔

کرد ڈیموکریٹک یونین پارٹی نے اجلاس میں شرکت کی دعوت موصول ہونے کا اعلان کیا تھا۔ پارٹی کے ایک ذمے دار نے "الحدث" نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ دعوت قبول کر لی گئی ہے اور اجلاس میں پارٹی کا نمائندہ شرکت کرے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں