شامی فوج کے پانی کے منبع پر قبضے کی متضاد اطلاع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

شامی حکومت کی فوج دارالحکومت دمشق کے نزدیک واقع گاؤں عين الفيجہ میں داخل ہوگئی ہے اور اس نے وہاں باغیوں سے پانی کے ایک منبع اور ایک پمپنگ اسٹیشن کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ اسی اسٹیشن سے شامی دارالحکومت کو پانی مہیا کیا جاتا ہے۔

لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ سے وابستہ ایک میڈیا ونگ نے اس اسٹیشن پر قبضے کی اطلاع دی ہے لیکن ایک مانیٹرنگ گروپ کا کہنا ہے کہ شامی فوج ابھی تک اس گاؤں میں داخل نہیں ہوئی ہے۔البتہ ایک سمجھوتے کے بعد وہ گذشتہ برسوں سے باغیوں کے زیر قبضہ اس گاؤں میں داخل ہوسکتی ہے۔

عين الفيجہ وادی بردی میں واقع ہے اور اس وادی میں گذشتہ برسوں کے دوران میں شامی فوج اور باغیوں کے درمیان خونریز جھڑپیں ہوچکی ہیں۔ باغیوں نے جنوری کے اوائل میں دمشق کو آب رسانی منقطع کردی تھی جس سے شہر میں پانی کی شدید قلت پیدا ہوگئی تھی۔

حزب اللہ کے میڈیا یونٹ نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ '' شامی فوج عين الفيجہ یں داخل ہوگئی ہے اور اس نے وہاں پانی کے منبع پر شامی پرچم لہرا دیا ہے''۔اس کا کہنا ہے کہ اس نے مزاحمت کاروں کے ساتھ ایک سمجھوتے کے تحت اس پر قبضہ کیا ہے اور اس کے تحت مزاحمت کار علاقے سے نکل جائیں گے۔

دوسری جانب برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے اس دعوے کی تردید کی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں ابھی ایک سمجھوتا متوقع ہے۔اس کے تحت باغی اپنے ہلکے ہتھیاروں سمیت شمال مغربی صوبے ادلب کی جانب چلے جائیں گے۔

رصدگاہ کا کہنا ہے کہ ''شامی فوج ابھی تک عين الفيجہ میں داخل نہیں ہوئی ہے اور نہ اس نے منبع یا پمپنگ اسٹیشن کا کنٹرول سنبھالا ہے''۔ تاہم شامی فوج اور اس کے اتحادیوں حزب اللہ وغیرہ نے حالیہ ہفتوں کے دوران میں وادی بردی میں باغیوں کے خلاف لڑائی میں نمایاں پیش قدمی کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں