شام سے متعلق جنیوا مذاکرات ملتوی ہوگئے، روس، یو این کی تردید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

روس کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ آئندہ ماہ جنیوا میں شام کے بحران کے حل کے سلسلے میں اقوام متحدہ کی زیر نگرانی ہونے والے مذاکرات ملتوی ہوگئے ہیں۔ دوسری جانب اقوام متحدہ نے روسی حکومت کے دعوے کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ مذاکرات اپنی تاریخ مقررہ پر ہی ہوں گے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق روسی وزیرخارجہ سیرگئی لافروف نے جمعہ کے روز ماسکو میں شامی حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے گروپوں کے مندوبین سے ملاقات کے دوران کہا کہ اقوام متحدہ کی زیرنگرانی جنیوا میں ہونے والے شامی مذاکرات ملتوی ہوگئے ہیں۔ یہ مذاکرات 8 فروری کو ہونا تھے جو اب فروری کے اخر میں ہوں گے، تاہم اقوام متحدہ نے فوری طور پر رد عمل میں روسی دعوے کومسترد کردیا ہے۔

اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ روس کا جنیوا میں شام سے متعلق اجلاس کے ملتوی ہونے کی دعویٰ بے بنیاد ہے۔ شام کے لیے اقوام متحدہ کے امن مندوب اسٹیفن دی میستورا آئندہ ہفتے شامی مذاکرات کی تیاریوں کے لیے نیویارک جائیں گے۔

شام کے لیے یو این ایلچی کے ترجمان بارا شریف نے ایک بیان میں کہا کہ فروری کے پہلے ہفتے میں جنیوا میں شام کے بحران پرہونے والی بات چیت ملتوی نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یو این مندوب اسٹیفن دی میستورا شامی مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے صلاح مشورہ کرنے امریکا جائیں گے، جہاں وہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیریس سے بھی بات چیت کریں گے۔

جنیوا مذاکرات کے شرکاء کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں اقوام متحدہ کی ایک دوسری ترجمان الیسندرا فیلوچی نے کہا کہ شامی اپوزیشن کے مختلف گروپوں کو جنیوا مذاکرات میں شریک کرانے کے لیے دعوت نامے تیار کیے جا رہے ہیں۔

خیال رہے کہ روس نے حال ہی میں ترکی اور ایران کی مدد سے کزاکستان کے صدر مقام آستانہ میں شام کے بحران کے حل کے لیے ایک اجلاس منعقد کرایا تھا جس میں شامی حکومت اور اپوزیشن کے دو درجن نمائندوں نے شرکت کی تھی۔

کل جمعہ کو روسی وزیرخارجہ کی خصوصی دعوت پر شامی اپوزیشن کے مندوبین کو ماسکو بلایا گیا تھا جہاں وزیر خارجہ سیرگئی لافروف اور شامی اعتدال پسند اپوزیشن کے درمیان بات چیت ہوئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں