"پاپولر موبیلائزیشن "اس طرح تشکیل دی : خامنہ ای کا مشیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایرانی مرشد اعلی علی خامنہ ای کے عسکری مشیر جنرل یحیی رحیم صفوی کا کہنا ہے کہ عراق میں پاپولر موبیلائزیشن ایرانی انقلاب کے نمونے کی تحریک ہے۔ صفوی نے اس ملیشیا کی تشکیل اور اس پر غلبے میں ایران کے کردار کو باور کرایا جو اب عراقی فورسز کا ایک حصہ بن چکی ہے۔ موبیلائزیشن ملیشیا پر انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے الزام عائد کیا ہے اس نے دہشت گرد تنظیم داعش کے خلاف لڑائی کے دوران عراقی شہریوں کے خلاف جنگی جرائم کا ارتکاب کیا۔

ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق صفوی نے جمعے کے روز اپنے بیان میں کہا کہ "لبنانی تنظیم حزب الله اور ایرانی مشاورت نے شام میں دہشت گردی کے مقابلے کے لیے سرکاری فوج کے محاذ کو مضبوط کیا"۔

خامنہ ای کے عسکری مشیر رحیم صفوی کا یہ بیان بریگیڈیئر جنرل ایرج مسجدی کے بغداد میں بطور ایرانی سفیر تقرر کی خبروں کے بعد سامنے آیا ہے۔ مسجدی ایرانی پاسداران انقلاب کی ذیلی تنظیم "قدس فورس" کے کمانڈر قاسم سلیمانی کا مشیر اعلی ہے۔

مسجدی پاسداران انقلاب کے سینئر ترین رہ نماؤں میں سے ہے۔ وہ عراق میں وزیر اعظم نوری المالکی کے دور (2006 – 2014) میں ایرانی پاسداران انقلاب کے "رمضان" نامی صدر دفتر کا سربراہ بھی رہا۔ 1983 میں قائم کیا جانے والا یہ دفتر ایران سے باہر پاسداران انقلاب کی انٹیلی جنس کارروائیاں سر انجام دیتا ہے اور گوریلا جنگ اور سڑکوں پر لڑائی کے لیے مخصوص ہے۔

ایرج مسجدی اس وقت پاپولر موبیلائزیشن ملیشیاؤں کی قیادت کی نگرانی کر رہا ہے۔ موبیلائزیشن کے رہ نما ہادی العامری اور انجینئر ابو مہدی براہ راست مسجدی سے احکامات وصول کرتے ہیں۔ ان دونوں شخصیات کے مسجدی کے ساتھ اُس وقت سے گہرے تعلقات ہیں جب وہ ایران عراق جنگ (1980 – 1988) کے دوران پاسداران انقلاب کی صفوں میں شامل ہو کر لڑائی میں شریک تھے۔

مسجدی 2014 سے عراق میں فیلق القدس کے صدر دفتر کے نگراں کے طور پر قیام پذیر رہا۔ وہ عراق میں ایرانی پالیسیوں پر عمل درامد کے واسطے اعلی ترین اہل کار ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں