یمن : انسانی تجارت سے لے کر قتل تک بنی آدم کے حقوق پامال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

یمن ہجرت کرنے والے افریقی باشندوں کا معاملہ یمن میں باغیوں کی جانب سے ہر سطح پر مرتکب انسانی حقوق کی پامالیوں کا ایک اور تاریک باب ہے۔

یمن میں باغیوں کی جانب سے پھیلائی گئی انارکی نے افریقی مہاجرین کی آمد میں اضافے کے حوالے سے بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ اس طرح بلیک لسٹ ملیشیاؤں کے سر انسانی تجارت کا سہرا بھی آ گیا ہے۔ انسانوں کی اسمگلنگ کی کارروائیوں میں سرگرم گروہوں کوان ملیشیاؤں کی براہ راست سپورٹ اور بعض سکیورٹی اور سرکاری ذمے داروں کی پشت پناہی حاصل ہوتی ہے۔

یمن میں انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کے مشن کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق ہر ماہ صومالیہ کے جنوب اور جیوتی سے تقریبا 12 ہزار مہاجرین یمن آتے ہیں۔

خلیجی ممالک پہنچنے کا خواب دیکھنے والے ان مہاجرین کو استحصال ، زیادتی ، اعضاء کی تجارت اور غیر انسانی سلوک کے علاوہ بلیک میلنگ کا بھی نشانہ بنایا جاتا ہے۔ مشن کے سربراہ کے مطابق زیادہ تر حالات میں انسانی حقوق کی پامالیاں اور خلاف ورزیاں دیکھنے میں آئی ہیں۔

منشیات ، ہتھیاروں اور انسانی تجارت حوثی باغیوں کے لیے آمدنی کا راستہ بن چکی ہے۔ دوسری جانب عدن میں یمنی قانونی حکام اتحادی افواج کے تعاون سے اس مظھر کے انسداد اور مہاجرین کو ان کے وطن لوٹانے کے لیے کوشاں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں