داعش کے خلاف نئی حکمت عملی.. امریکی فوج کو 30 دن کی مہلت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے ہیں جس میں فوج کو 30 روز کی مہلت دی گئی ہے تاکہ داعش تنظیم کو شکست سے دوچار کرنے کے لیے ایک نئی حکمت عملی وضع کی جائے۔ یہ اقدام ریپبلکن صدر کی جانب سے ان کی انتخابی مہم کے دوران کیا گیا ایک مرکزی وعدہ پورا کرنے کا حصہ ہے۔

آرڈر میں عسکری قیادت کو پابندی کیا گیا ہے کہ وہ 30 روز کے اندر ایک جامع حکمت عملی اور متعلقہ منصوبے مسلح افواج کے سپریم کمانڈر کو پیش کریں۔

ایگزیکٹو آرڈر میں وزیر دفاع جیمس میٹس سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ لڑائی کے قواعد و ضوابط کی تبدیلی کے حوالے سے ضروری ہدایات تیار کریں تاکہ داعش کے خلاف طاقت کے استعمال سے متعلق بین الاقوامی قانون سے تجاوز کرنے والے قواعد سے چھٹکارہ پایا جا سکے۔ اسی طرح مذکورہ آرڈر میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ دہشت گردوں کو مالی رقوم کی فراہمی کے ذرائع اور وسائل کا قلع قمع کرنے کے لیے تجاویز تیار کی جائیں۔

ٹرمپ نے جمعرات کے روز "فوكس نيوز" پر نشر ہونے والے انٹرویو میں کہا تھا کہ " ہم پر لازم ہے کہ داعش سے چھٹکارہ حاصل کریں۔ ہمارے سامنے کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے.. یہ سراسر بدی ہے اور ہم نے اس سطح کی بدی پہلے نہیں دیکھی"۔

افغانستان میں 2003 سے 2005 تک اتحادی افواج کی قیادت کرنے والے ریٹائرڈ جنرل ڈیوڈ بیرنو نے جمعے کے روز امریکی ریڈیو کو دیے گئے بیان میں کہا کہ " صدر ٹرمپ ہوسکتا ہے کہ ایسے امر کی توقع رکھتے ہوں جو جلد نتائج پیش کر سکے اور وہ اس سلسلے میں میز پر زیادہ آپشن رکھ سکتے ہیں"۔

اس وقت امریکا نے عراق میں اپنے 5000 اور شام میں 500 فوجیوں کو عسکری "مشیر" کی حیثیت سے رکھا ہوا ہے جب کہ لڑائی میں مدد کے لیے توپیں اور لڑاکا طیارے بھی موجود ہیں۔

رپورٹوں کے مطابق داعش تنظیم کے ٹھکانوں پر حملوں میں عراقی ، ترک اور کرد فورسز کے ساتھ شرکت کے لیے مزید امریکی بکتر بند گاڑیوں اور ہیلی کاپٹروں کو بھیجا جا سکتا ہے۔

جنرل ڈیوڈ کے مطابق ٹرمپ زمینی طور پر زیادہ بڑی تعداد میں امریکی فوجیوں کو تعینات کر سکتے ہیں اور اس سے لڑائی میں زیادہ گہرائی کے ساتھ شرکت اور مزید جانی نقصان کا دروازہ کھل جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں