مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کے لیے 3000 نئے مکانوں کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد انتہا پسند اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی اراضی ہتھیانے کے لیے کارروائیاں تیز کردی ہیں اور اس نے منگل کی شب یہودی آباد کاروں کے لیے مزید تین ہزار نئے مکانات تعمیر کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد اسرائیل کی جانب سے دو ہفتے سے بھی کم وقت میں اس طرح کا یہ چوتھا اعلان ہے۔اسرائیلی وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا ہے کہ '' وزیر دفاع ایویگڈور لائبرمین اور وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے جودیا سمیریا میں مزید تین ہزار نئے مکانوں کی تعمیر کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے''۔ واضح رہے کہ اسرائیل دریائے اردن کے مغربی کنارے کے لیے جودیا سمیریا کی اصطلاح استعمال کرتا ہے۔اسرائیل نے 1967ء کی جنگ کے بعد سے اس علاقے پر قبضہ کررکھا ہے۔

20 جنوری کو ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری کے بعد اسرائیل نے مشرقی القدس میں یہودی آبادکاروں کی تین بستیوں میں 566 نئے مکانوں کی تعمیر کی منظوری دی ہے اور غرب اردن میں مزید 2502 مکانوں کی تعمیر کا اعلان کیا ہے۔گذشتہ جمعرات کو اسرائیلی حکام نے مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں یہودی آباد کاروں کے لیے 153 مکانوں کی تعمیر کی منظوری دی تھی۔

یہ منصوبے سابق صدر براک اوباما کی انتظامیہ کے دباؤ پر منجمد کر دیے گئے تھے۔اس نے خبردار کیا تھا کہ اسرائیلی آباد کاری کے منصوبوں پر عمل درآمد سے تنازعے کے دو ریاستی حل کے لیے تمام امیدیں موہوم ہوجائیں گی۔ تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے اور نیتن یاہو حکومت اس سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہی ہے۔

نیتن یاہو نے گذشتہ ہفتے یہ کہا تھا کہ ''ہم تعمیرات کررہے ہیں اور ہم یہ تعمیرات جاری رکھیں گے'' ۔ ان کا اشارہ یہودی آبادکاروں کے لیے مکانوں کی تعمیر کے منصوبوں کی جانب تھا۔

اس وقت اسرائیل کے زیر قبضہ دریائے اردن کے مغربی کنارے کے علاقے میں مختلف شہروں اور بستیوں میں قریباً ساڑھے تین لاکھ یہودی آباد کار رہ رہے ہیں۔مزید دو لاکھ مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں رہ رہے ہیں۔ان کے علاوہ مغربی کنارے میں پہاڑیوں پر یہود کی ایک سو سے زیادہ چھوٹی بڑی بستیاں ہیں۔

یاد رہے کہ اسرائیل نے 1967ء کی جنگ میں بیت المقدس ،غرب اردن اور غزہ کی پٹی پر قبضہ کر لیا تھا۔اس نے بعد میں بیت المقدس کو اپنی ریاست میں ضم کر لیا تھا مگر اس اقدام کو امریکا سمیت عالمی برادری تسلیم نہیں کرتی ہے اور ان کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہے۔

اسرائیل تورات اور زبور کے حوالوں سے بیت المقدس کو یہودیوں کے لیے خاص شہر قرار دیتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یہودیوں کو اس شہر میں کہیں بھی بسیرا کرنے کی اجازت ہے۔وہ یروشلم کو اپنا ابدی دارالحکومت بھی قرار دیتا ہے جبکہ فلسطینی اس مقدس شہر کو اپنی مستقبل میں قائم ہونے والی ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں