.

احمدی نژاد ایران کو اسلحہ اسمگل کرنے والے اطالوی جوڑے کے ساتھ !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک اطالوی اخبار la Repubblica میں محمود احمدی نژاد سے متعلق شائع ہونے والی خبر کے ساتھ دی گئی تصویر میں سابق ایرانی صدر ایک اطالوی جوڑے کے ساتھ نظر آ رہے ہیں جو ناپولی میں اسلحے کے اسمگلروں میں سے ہے۔ نژاد کی دوسری مدت صدارت فروری 2013 میں مکمل ہو گئی تھی۔

اطالوی پولیس نے منگل کے روز ایران اور لیبیا کو اسلحے کی اسمگلنگ میں ملوث تین افراد کو گرفتار کرنے کا انکشاف کیا۔ اطالوی اخبارات نے مذکورہ جوڑے کی سابق ایرانی صدر کے ساتھ تصویر کو خصوصی طور پر شائع کیا ہے۔

فرانسیسی ریڈیو کی فارسی زبان کی ویب سائٹ نے بتایا ہے کہ اطالیہ کے تیسرے بڑے شہر سے ناپولی سے تعلق رکھنے والے اس جوڑے نے اسلام قبول کیا۔ )ایسا نظر آتا ہے کہ انہوں نے فقہ جعفری کو اختیار کیا(۔ ویب سائٹ کے مطابق شوہر کا نام جعفر ہے اور اس جوڑے کے ایران کے ساتھ وسیع تعلقات تھے۔

جہاں تک تیسرے گرفتار شخص کا تعلق ہے تو وہ دارالحکومت روم میں ہیلی کاپٹروں کی فروخت کرنے والے ایک اطالوی کمپنی کا ذمے دار ہے۔

اطالوی جوڑے کی احمدی نژاد کے ساتھ تصویر شائع کرنے والے اخبارات نے اس حوالے سے اضافی تفصیلات اور تصویر کی تاریخ کا ذکر نہیں کیا۔

تینوں گرفتار افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے عالمی برادری کی جانب سے لیبیا اور ایران پر عائد پابندیوں کو جھانسہ دیا۔ دھوکے کی کارروائیاں اطالیہ سے باہر سرگرمیاں رکھنے والی کمپنیوں کے ذریعے عمل میں آئیں۔ اس دوران ایران اور لیبیا کو ایسا سازوسامان ارسال کیا گیا جو عسکری شعبے میں کام آسکتا ہے۔

اخبار la Repubblica کے مطابق اسی ڈیل کے تحت ایمبولینس ہیلی کاپٹروں کو فوجی ہیلی کاپٹروں میں تبدیل کیا گیا۔ تاہم رپورٹ میں یہ انکشاف نہیں کیا گیا کہ مذکورہ ہیلی کاپٹر ایران نے خریدے یا لیبیا نے !

ناپولی شہر میں حکام نے لیبیا کے ایک شہری کی گرفتاری کا حکم بھی جاری کیا ہے جس کا مذکورہ معاملے سے تعلق ہے تاہم اس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔

اطالیہ میں عدالتی حکام اسلحہ اسمگلنگ نیٹ ورک سے متعلق اس معاملے کی 2011 سے چھان بین کرر ہے تھے۔