.

انتقال اقتدار کی یقین دہانی کے بغیر مذاکرات ممکن نہیں: شامی اپوزیشن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں سیاسی اپوزیشن کے نمائندہ گروپوں نے واضح کیا ہے کہ جب تک شام میں اقتدار عبوری حکومت کومنتقل کرنے کا اعلان نہیں کیا جاتا اس وقت تک مذاکرات کی دعوت قبول نہیں کریں گے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق کل بدھ کو شامی اپوزیشن کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ شام میں قیام امن کے لیے عبوری حکومت کا قیام ناگزیر ہے۔ اس کے بغیر بات چیت آگے نہیں بڑھ سکتی۔ اگرمذاکرات کے نتیجے میں اقتدار کی عبوری حکومت کو منتقلی ممکن نہیں تو اپوزیشن ایسے بے مقصد مذاکراتی ڈرامے کا حصہ نہیں بنے گی۔ مذاکرات کے نتیجے میں شام میں اقتدار عبوری کونسل کو منتقل ہونا ہمارا اہم ترین مطالبہ ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ جب تک پورے ملک میں جنگ بندی کا عملی نفاذ نہیں کیا جاتا اس وقت تک خانہ جنگ اور تنازع کے سیاسی حل کے لیے موثر اقدامات ممکن نہیں ہیں۔

اپوزیشن کا کہنا ہے کہ کسی دوسرے ملک کو اس بات کا اختیار نہیں کہ وہ اپنی مرضی سے اپوزیشن کے مذاکراتی نمائندے مقرر کرے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے امن مندوب اسٹیفن دی میستورا کے بیان پر تنقید کی اور کہا کہ شامی اپوزیشن کو اپنے نمائندے مقرر کرنے کا خود اختیار حاصل ہے۔

قبل ازیں منگل کو اقوام متحدہ نے شام سے متعلق جنیوا میں ہونے والے مذاکرات 20 فروری تک ملتوی کردیے تھے۔ جب کہ اس سے قبل ان مذاکرات کی تاریخ آٹھ فروری مقرر کی گئی تھی۔

سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد دی میستورا نے خبردار کیا تھا کہ اگر شامی اپوزیشن 8 فروری کے مذاکرات میں اپنا مذاکراتی وفد شریک کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو ہم خود شامی اپوزیشن کی طرف سے جامع نوعیت کا وفد شامل کرنے کی کوشش کریں گے۔

دی میستورا نے سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران سفارت کاروں کو بتایا کہ بیس فروری کو ہونے والے مذاکرات کے بارے میں دعوت نامے آٹھ فروری کو ارسال کیے جائیں گے۔

شامی اپوزیشن کے ترجمان سالم المسلط نے ایک بیان میں کہا کہ دی میستورا کا بیان جس میں انہوں نے شامی حزب اختلاف کا نمائندہ وفد تیار کرنے کا عندیہ دیا ہے ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ کیا مسٹر میستورا شامی حکومت کی طرف سے بھی اپنی مرضی کا وفد تشکیل دے سکتے ہیں؟

انہوں نے کہا کہ مذاکرات کا التوا شامی قوم کے مفاد میں نہیں۔ مذاکرات کو ملتوی کرنے کا فیصلہ اسد رجیم اور اس کے حامیوں کے مطالبے پرکیا گیا۔ اپوزیشن کی تیاری سے نمائندہ وفد کا تیار نہ ہونے کا محض بہانہ بنایا گیا۔