.

ایران: رفسنجانی کا جانشین کون ہے ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی مرشد اعلیٰ علی خامنہ ای نے محمد علی موحدی کرمانی کو ہاشمی اکبر رفسنجانی کی جگہ مجلس تشخیص مصلحت نظام کا سربراہ مقرر کر دیا ہے۔ رفسنجانی 8 جنوری کو وفات پا گئے تھے۔ اگرچہ کرمانی کا تقرر مجلس کی حالیہ میعاد کے ختم ہونے یعنی 21 مارچ تک کے لیے کیا گیا ہے۔ تاہم مبصرین کے نزدیک خامنہ ای کا یہ اقدام ایرانی ریاستی اداروں پر اپنے غلبے میں توسیع کے سلسلے میں ہے۔

مجلس تشخیص مصلحت نظام کے سربراہ کا منصب ان اہم مناصب میں شمار کیا جاتا ہے جو رفسنجانی اپنی وفات کے بعد چھوڑ گئے۔ توقع ہے کہ آنے والے دنوں میں بنیاد پرستوں اور اعتدال پسندوں کے درمیان اس حوالے سے سخت مقابلہ ہوگا۔

اس سے قبل "عصر ايران" ویب سائٹ نے ان شخصیات کے ناموں کا ذکر کیا تھا جو رفسنجانی کے بعد مجلس کی سربراہی سنبھال سکتی تھیں۔ ان میں صدر حسن روحانی ، ہاشمی شاہ رودی ، علی اکبر ناطق نوری ، حداد عادل ، علی اکبر ولایتی اور محمود احمدی نژاد شامل تھے۔

موحدی کرمانی کون ہے ؟

آیت اللہ محمد علی موحدی کرمانی کی عمر 85 برس ہے۔ وہ خامنہ ای کے نزدیکی قدامت پسند بنیاد پرست بلاک کا ایک اہم ستون سمجھے جاتے ہیں۔ کرمانی ایرانی مجلس خبرگان رہبری کے نائب سربراہ بھی ہیں۔ وہ 1990 سے 2004 تک ایرانی پاسداران انقلاب میں مرشد اعلی کے نمائندے کے منصب پر بھی فائز رہ چکے ہیں۔

موحدی کرمانی نے گذشتہ نماز جمعہ کے خطبے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نصیحت کی تھی کہ وہ ان غلطیوں کو ہر گز نہ دُہرائیں جن کا ارتکاب سابقہ امریکی انتظامیہ کے سربراہوں نے کیا۔

انھوں نے ٹرمپ سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتخابی مہم کے دوران کیے گئے وعدوں کو پورا کریں جن میں امریکی عوام کی خدمت ، سابقہ حکومت کے اقدامات کی درستی ، امریکی عوام کو غربت سے بچانا ، دیگر ممالک کے امور میں مداخلت کو روکنا اور انسداد دہشت گردی شامل ہے۔