.

شام میں اقتدار کی سیاسی منتقلی 3 مراحل پر مشتمل ہوگی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ میں عرب ممالک کے گروپ نے شام کے لیے خصوصی بین الاقوامی ایلچی اسٹیفن ڈی میستورا کے ساتھ بات چیت کی ہے جس کے بعد اس امر کی تصدیق کی گئی ہے کہ شام میں اقتدار کی سیاسی منتقلی 3 مراحل پر مشتمل ہوگی جن میں عبوری حکومت اور آئین کی تشکیل شامل ہیں۔

ادھر "العربیہ" نیوز چینل کو دیے گئے خصوصی بیان میں ڈی میستورا نے شام کے حوالے سے جنیوا مذاکرات میں عرب لیگ کی شرکت کی اہمیت کو باور کرایا۔ انہوں نے بتایا کہ اس ویژن کو سلامتی کونسل کے سامنے بھی رکھا گیا ہے۔ ڈی میستورا کے مطابق شام عرب دنیا میں واقع ملک ہے لہذا جنیوا بات چیت میں عرب لیگ کی موجودگی ضروری ہے۔

اس سے قبل اسٹیفن ڈی میستورا کے اُس بیان پر شامی اپوزیشن کی جانب سے یکے بعد دیگرے ردعمل سامنے آئے تھے جس میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی نے کہا تھا کہ اگر موجودہ شامی اپوزیشن جنیوا کے لیے اپنے وفد کے ارکان نامزد کرنے میں ناکام رہی تو وہ خود اپوزیشن کا وفد تشکیل دینے پر مجبور ہوجائیں گے۔

شامی اپوزیشن کی جانب سے مذاکرات کی سپریم کمیٹی نے ایک بیان میں کہا کہ بیرونی فریق بات چیت کے لیے شامی نمائندوں کا چُناؤ نہیں کر سکتے۔ بیان میں زور دے کر کہا گیا کہ اگر آئندہ جنیوا مذاکرات میں اقتدار کو ملک میں عبوری کمیٹی کے حوالے کرنے کی ضمانت نہ دی گئی تو مذاکرات میں شرکت کی دعوت ہر گز قبول نہیں کی جائے گی۔

سپریم کمیٹی کے کوآرڈی نیٹر ریاض حجاب نے اپنی ٹوئیٹ میں کہا تھا کہ اہم ترین امر یہ ہے کہ ڈی میستورا مذاکرات کا ایجنڈا مقرر کریں اور شامی اپوزیشن کا وفد متعین کرنا ان کا کام نہیں ہے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل آنتونیو گوٹرس نے بھی اپنے خصوصی ایلچی کی طرح خبردار کیا ہے کہ اگر شامی اپوزیشن 20 فروری کو آئندہ مذاکرات کے لیے اپنا وفد مقرر نہیں کر سکی تو پھر اقوام متحدہ کی جانب سے وفد کے ارکان کا تقرر ہو سکتا ہے۔