داعش کا موصل میں عراقی فوج کے خلاف ڈرون طیاروں کا استعمال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شدت پسند گروپ ’داعش‘ کی جانب سے عراق کے شمالی شہر موصل میں جاری لڑائی کے دوران بغیر پائلٹ کے ڈرون طیاروں کے استعمال کا انکشاف ہوا ہے۔

’العربیہ‘ چینل کی ایک رپورٹ کے مطابق موصل میں عراقی فوج کے ہمراہ داعش کے قبضے سے چھڑائے گئے علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے ہارورڈ یونیورسٹی کے ایک تحقیق کار نے بتایا کہ انہیں موصل سے ایسی دستاویزات ہاتھ لگی ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ داعشی جنگجو نہ صرف بغیر پائلٹ کے ڈرون ٹیکنالوجی کے لیس ہیں بلکہ وہ اس کے استعمال میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔ داعشی جنگجو موصل میں جاری آپریشن کےدوران عراق فوج پر حملوں کے لیے ڈورن طیاروں کا استعمال کرتے رہے ہیں۔

اسی قسم کی دستاویزات امریکی فوج کے ہاتھ بھی لگیں جنہوں نے خبردار کیا کہ داعش ڈرون طیاروں کو اپ گریڈ کرنے اور انہیں زیادہ فعال طریقے سے جنگی مقاصد کے لیے استعمال کرنے میں مہارت رکھتی ہے۔ دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ داعش ڈرون طیاروں کے استعمال کے لیے بیوروکریٹک اور الگ تھلگ سسٹم کے استعمال میں مہارت رکھتی ہے۔

چار صفحات پر مشتمل ایک دستاویز کے پہلے صفحے میں ڈرون طیارے کی چھ مہمات بیان کی گئی ہیں۔ جن میں جاسوسی، عسکری تربیت، بم دھماکے جیسی مہمات شامل ہیں۔

دوسرے صفحے میں ڈرون طیاروں کی اس انداز میں چھان بین کرنا کہ وہ انہیں دھماکوں کے لیے استعمال کیا جاسکے۔ تیسرے صفحے پر ڈرون طیارے کی مدد سے استعمال ہونے والے آلات کی فہرست اور آخری صفحے میں ڈرون طیاروں میں نصب کیمروں GO PRO، اہداف کی نشاندہی کے لیے GPS سسٹم اور دیگر معلومات درج کی گئی ہیں۔

داعش کی سرکوبی کے لیے سرگرم عالمی اتحاد کے ترجمان کے مطابق داعش نے عراقی فورسز پر ڈرون طیاروں کی مدد سے 80 حملے کیے جس کے نتیجے میں 12 فوجی ہلاک اور 50 زخمی ہوئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں