ٹرمپ اور آسٹریلوی وزیراعظم کے درمیان "فون کال" کے بھید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

گزشتہ ہفتے کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے حلیف آسٹریلوی وزیراعظم میلکم ٹرن بال کے درمیان ٹیلیفونک بات چیت کی تفصیلات سے سے دھیرے دھیرے پردے اُٹھ رہے ہیں۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ مذکورہ فون کال کو پورے ایک گھنٹے تک جاری رہنا تھا تاہم ٹرمپ نے صرف 25 منٹ کے بعد ہی غصے میں اس کو منقطع کر دیا۔

ٹرمپ نے آسٹریلوی وزیراعظم کے ساتھ اس ٹیلیفونک گفتگو کو اب تک کسی بھی عالمی رہ نما کے ساتھ اپنی "بدترین بات چیت" قرار دیا۔ ادھر جمعرات کے روز ایک پریس کانفرنس میں ٹرن بال نے مذکورہ بات چیت کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے باور کرایا کہ "وہ ہر خاص اور عام مجلس میں آسٹریلیا کا دفاع کریں گے"۔

واشنگٹن پوسٹ نے سینئر امریکی عہدے دار جن کو اس فون کال کی تفصیلات کی جان کاری دی گئی تھی.. ان کے حوالے سے بتایا ہے کہ ٹرمپ نے سابق صدر باراک اوباما کی انتظامیہ کے ساتھ پناہ گزینوں سے متعلق طے پائے جانے والے معاہدے کے حوالے سے ٹرن بال پر کڑی نکتہ چینی کی۔ اس معاہدے کے تحت امریکا آسٹریلیا میں پناہ کی درخواست دینے والے 1250 افراد کو اپنی سرزمین پر آباد کرے گا۔ ٹرن بال نے ٹرمپ سے یہ معلوم کرنا چاہا تھا کہ سات مسلم اکثریتی ممالک کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی سے متعلق حکم نامہ جاری ہونے کے بعد مذکورہ معاہدے پر عمل درامد کا طریقہ کار کیا ہوگا۔

بعد ازاں ٹرمپ نے ایک ٹوئیٹ میں کہا کہ وہ اس احمقانہ معاہدے پر غور کریں گے جو اوباما انتظامیہ نے پناہ گزینوں کے خیرمقدم کے حوالے سے آسٹریلیا کے ساتھ کیا۔

امریکی ذمے داران کے مطابق ٹرمپ نے آسٹریلوی وزیراعظم کو بتایا کہ اسی روز ان کی متعدد عالمی رہ نماؤں کے ساتھ گفتگو ہوئی ہے جن میں روسی صدر ولادیمر پوتن بھی شامل ہیں۔

کال کے دوران ٹرمپ نے ٹرن بال پر الزام عائد کیا کہ وہ "نئے خودکش بم بار" برآمد کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ ٹرمپ کا اشارہ واضح طور پر 2013 میں امریکا کے شہر بوسٹن میں میراتھن دوڑ کو نشانہ بنانے والے دھماکے کی جانب تھا۔

یاد رہے کہ پناہ گزینوں کے ساتھ معاملے کے حوالے سے آسٹریلیا کی پالیسی کو بین الاقوامی سطح پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ آسٹریلیا میں پناہ کے طالب درخواست گزاروں کو ملک کے ساحل سے قریب جزیروں پر قائم غیر معیاری مراکز میں بہت خراب حالات میں رکھا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں