ادلب میں نیا انقلاب ،فتح الشام محاذ کے خلاف مظاہرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شام کے شمال مغربی صوبے ادلب میں ہر جمعے کو شہری پُرامن احتجاجی مظاہرے کے لیے جمع ہوتے ہیں۔وہ مارچ 2011ء میں آغاز ہونے والے عوامی انقلاب کی یاد کو تازہ کرنے کے لیے مظاہرہ کرتے ہیں اور صدر بشارالاسد کی حکومت اور فوج کی چیرہ دستیوں کے خلاف احتجاج کے بعد منتشر ہوجاتے ہیں۔اس جمعے کو بھی انھوں نے احتجاج کیا ہے مگر ذرا مختلف انداز میں۔

ادلب شہر کے مکینوں اور مقامی کارکنان نے حسب معمول جمع ہو کر احتجاجی مظاہرہ کیا اور وہی نعرے لگائے لیکن اس مرتبہ ہدف بشارالاسد نہیں بلکہ جبہۃ فتح الشام (ماضی میں القاعدہ سے وابستہ النصرۃ محاذ) کے سربراہ محمد الجولانی تھے۔

صوبہ ادلب میں واقع شہروں الدانا ،معرۃ النعمان اور دوسرے قصبوں میں سیکڑوں افراد نے فتح الشام محاذ کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔ سنہ 2011ء سے صدر بشارالاسد کے خلاف ہر جمعے کو شام بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے جارہے ہیں لیکن گذشتہ روز مظاہرے کا عنوان ''شام میں القاعدہ کے لیے کوئی جگہ نہیں'' تھا۔

ایک امدادی کارکن خالد سلام نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''یہ شام میں ایک نئے انقلاب کا آغاز ہے۔ لوگ ہر اس قوت کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کو تیار ہیں جو ان کی آزادی میں حائل ہوگی''۔

ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ چند روز نے تو سنہ 2011ء میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کی یاد تازہ کردی ہے۔ القاعدہ کے جھنڈے اتارے جارہے ہیں اور ایک مرتبہ پھر شامی انقلاب کے پرچم بلند کیے جارہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نے یہ بات دو سال قبل کہی تھی کہ دمشق کی آزادی کا راستہ انتہا پسندوں کی شکست سے ہوکر گزرتا ہے۔

خالد سلام نے کہا کہ انھوں نے بشار الاسد کی ملیشیاؤں کے علاوہ حزب اللہ ،عراقی ملیشیا ،ایران ،روس ،داعش اور القاعدہ کے خلاف جنگ لڑی ہے اور یہ سب ایک ہی ہیں مگر مختلف انداز میں لڑرہے ہیں''۔

گذشتہ جمعے کو فتح الشام محاذ اور شامی باغیوں کے درمیان ادلب کے مغرب میں حلب اور ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع علاقے میں جھڑپیں ہوئی تھیں۔ شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق کے مطابق متحارب دھڑوں نے لڑائی میں بھاری ہتھیار استعمال کیے تھے اور دونوں کا بھاری جانی نقصان ہوا تھا۔ان جھڑپوں کے بعد ایک بڑے شامی باغی گروپ احرار الشام نے جیش الحر کا ساتھ دینے کا اعلان کیا تھا اور فتح الشام محاذ کے ساتھ مصالحت سے انکار کردیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں