شام کے لیے تیار کردہ نئے دستور پربحث قبل از وقت ہے:اپوزیشن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شامی اپوزیشن نے ملک کے لیے روس کی نگرانی میں تیار کردہ نئے دستور پر بحث کو قبل از وقت قرار دے کر پر اس پر بات چیت سے انکار کردیا ہے۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کل جمعہ کو ترکی کے شہر استنبول میں شامی اپوزیشن کے ایک اجلاس کے دوران شامی اپوزیشن کی سپریم رابطہ کونسل برائے مذاکرات اور نیشنل الائنس کے رہ نماؤں نے اپنے موقف میں کہا کہ شام کی خود مختاری اور اس کے نئے قانون پر بحث کے لیے یہ وقت مناسب نہیں ہے۔ دستور پربحث اس وقت کی جائے گی جب شام میں مکمل طور پرامن ہوگا اور انتقال اقتدار کی یقین دہانی کرائی جائے گی۔

شامی اپوزیشن کی طرف سے یہ موقف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اقوام متحدہ کی نگرانی میں شام کے بحران کے حل کے لیے ’جنیوا 4‘ اجلاس کے انعقاد کی تیاریاں کی جا رہی ہیں مگر اس اجلاس کی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا جاسکا ہے۔

اسی حوالے سے شامی حزب اختلاف کے مندوبین کا ایک اہم اجلاس کل استنبول میں ہوا جس میں ترک حکام نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں شامی اپوزیشن نے روس کی جانب سے شام کے لیے تیار کردہ نئے دستور اور انتظامی اداروں کی تقسیم و تشکیل نو کی تجاویز پر غور وخوض مسترد کردیا۔

استنبول اجلاس میں پرسوں سوموار کو قزاقستان کے دارالحکومت آستانہ میں ترکی، روس اور ایران کے مشترکہ اجلاس کے بارے میں غور کیا گیا۔ آستانہ میں ہونے والے اجلاس میں شامی حکومت اور اپوزیشن کے مندوبین کو شریک نہیں کیا جائے گا۔

جنیوا میں اقوام متحدہ کی زیرنگرانی مجوزہ مذاکرات میں شرکت کے حوالے سے بھی شامی اپوزیشن منقسم ہے۔ جیش الحر کے جنوبی محاذ کے ترجمان کیپٹن عصام الریس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جب تک شام میں جنگ بندی کا نفاذ نہیں ہوتا اس وقت تک جیش الحر جنیوا مذاکرات میں شرکت نہیں کرے گی۔

انہوں نے شام کے لیے اقوام متحدہ کے مندوب اسیٹفن دی میستورا کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ میستورا کو مذاکرات میں شرکت کے لیے من پسند اپوزیشن ارکان کے چناؤ کا کوئی اختیار نہیں۔ یہ فیصلہ اپوزیشن کو کرنا ہوگا کہ انہیں جنیوا مذاکرات میں کس کو بات چیت کے لیے بھیجنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں