میرا بیٹا بے قصور ہے، لوفرے میں حملہ نہیں کیا: مصری والد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

مصری پولیس کے سابق جنرل رضا رفاعی حماحمی کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا عبداللہ بالکل بے قصور ہے اور اس نے فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں لوفرے عجائب گھر میں کسی پر چاقو سے کوئی حملہ نہیں کیا تھا۔اس کو اس واقعے میں پھنسایا جارہا ہے۔

انھوں نے العربیہ کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ ان کا انتیس سالہ بیٹا عبداللہ بالکل بے قصور ہے اور ان کے پاس اس کے حق میں شواہد موجود ہیں۔انھوں نے بتایا کہ ان کا بیٹا اس وقت متحدہ عرب امارات کے شہر شارجہ میں ایک قانونی مشاورتی فرم میں ملازم ہے۔اس نے چند روز پہلے مجھ سے بات کی تھی اور یہ بتایا تھا کہ وہ دفتر کے ساتھیوں کے ہمراہ دفتری سفر کے سلسلے میں پیرس جا رہا ہے اور ہفتے کے روز شارجہ واپس آئے گا۔

پیرس کے ایک زیر زمین مال میں جمعے کے روز گشت کرنے والے ایک فوجی کے زخمی ہونے کے بعد عبداللہ کو چار گولیاں ماردی گئی تھیں جس سے وہ زخمی ہوگیا تھا۔پیرس کے پراسیکیوٹرز کے مطابق اس کے زخم جان لیوا نہیں ہیں۔

جنرل رضا نے بتایا ہے کہ عبداللہ نے ان سے جمعرات کو رابطہ کیا تھا اور یہ بتایا تھا کہ وہ جمعہ کو چھٹی کرے گا اور پیرس کی سیر کرے گا۔پھر اس نے یہ بھی بتایا کہ اس کا دورہ کامیاب رہا ہے۔

لیکن جمعہ کے روز وہ اپنے بیٹے کے لوفرے میں تشدد کے واقعے میں ملوث ہونے کا سن کر ہکا بکا رہ گئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ کئی وجوہ کی بنا پر عبداللہ بالکل بے قصور ہے۔

اس کی انھوں نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ''عبداللہ پر ایک پولیس افسر پر چاقو سے حملہ آور ہونے کا الزام عاید کیا جارہا ہے جبکہ پولیس افسر کا قد 190 سینٹی میٹر تھا اور عبداللہ کا قد صرف 157 سینٹی میٹر ہے۔اب منطق تو یہ کہتی ہے کہ وہ حملہ آور نہیں ہوسکتا۔پھر لوفرے کے تین الیکٹرک گیٹ ہیں۔ وہاں سے کوئی ہتھیار یا لوہے کی کوئی چیز لے جانا ناممکن ہے''۔

''یہ بھی بالکل نامعقول بات ہے کہ ایک شخص گھر والوں کے لیے تحائف خرید کررہا ہے ،اس کا شناختی کارڈ اس کے پاس ہے اور وہ دہشت گردی کا حملہ بھی کررہا ہے''۔ان کا مزید کہنا تھا۔

جنرل رضا نے مزید بتایا ہے کہ ان کا بیٹا موسیقی کا دلدادہ ہے۔اس کی کسی سیاسی یا انتہا پسند گروپ کے ساتھ کوئی وابستگی نہیں ہے۔وہ انتہا پسندانہ نظریات کے خلاف ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ عبداللہ نے جو کچھ ٹویٹر پر لکھا ہے،اس کے بارے میں ان کی کیا رائے ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ''یہ بھی تو ممکن ہے کہ اس کا ٹویٹر اکاؤنٹ کسی نے ہیک کر لیا ہو۔ جو کچھ ٹویٹر پر لکھا ہے، وہ میرے بیٹے کے الفاظ نہیں ہیں۔وہ زندگی سے محبت کرتا ہے اور ان انتہا پسندوں سے نفرت کرتا ہے جو بے گناہ لوگوں کو قتل کرتے ہیں''۔

مصری جنرل کا کہنا تھا کہ اس وقت ان کا بیٹا پیرس میں ایک اسپتال میں زیرعلاج ہے۔ فرانسیسی سکیورٹی فورسز نے اس کو شناخت کیے بغیر ہی گولی مار دی تھی۔اس کے نتیجے میں اس کے معدے کی سرجری ہوئی ہے۔خاندان کے افراد کو اب اس سے بات کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ مصری سکیورٹی فورسز کے پاس عبداللہ کے کیس سے متعلق تمام ضروری معلومات ہیں۔

انھوں نے مزید بتایا ہے کہ ''عبداللہ شادی شدہ ہے اور اس کا ایک بیٹا یوسف ہے۔ وہ اپنے کام سے کام رکھنے والا انسان ہے۔کام سے لگن کی وجہ سے ہی اس کی کمپنی کو اس پر اعتماد ہے اور وہ ماضی میں بھی اس کو یو اے ای سے باہر بھیجتی رہی ہے۔اگر اس کے انتہا پسندانہ خیالات ہوتے تو امارات سے اس کو کب کا نکال باہر کیا جاتا''۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں