یمنی فوج نے میدی کے محاذ سے 30 باغی گرفتار کر لیے

صنعاء میں علی عبد اللہ صالح کی لڑاکا ملیشیا کے ٹھکانوں پر بمباری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن کی آئینی حکومت کی وفادار فوج اور ملیشیا نے میدی کے محاذ پرایک کارروائی کے دوران کم سے 30 باغی جنگجو گرفتار کرلیے ہیں۔

’العربیہ‘ اور اس کے برادر چینل ’الحدث‘ کے ذرائع کے مطابق میدی محور کے مقام پر حکومتی فورسز اور باغیوں کے درمیان خونریز لڑائی کے بعد فوج نے متعدد باغیوں کو ہلاک کرنے کے ساتھ کم سے کم تیس جنگجوؤں کو گرفتار کر لیا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق المخا شہرمیں الیکٹرو تھرمل پاور پلانٹ اور المینا میں اتحادی طیاروں نے بمباری کی جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی اور کئی جنگجو مارے گئے ہیں۔

عرب اتحادی فوج نے یمن کے سابق صدر علی صالح کی وفادار ملیشیا اور ری پبلیکن گارڈز کے صنعاء میں السواد کے مقام پر قائم ہیڈ کواٹرز پر بھی حملے کیے گئے جس کے نتیجے میں متعدد جنگجو مارے گئے۔ شمالی صنعاء مین ارحب ڈاریکٹوریٹ، جبل نقم میں الحفا کیمپ، جبل نھدین اور الصمع فوجی کیمپ کو بھی بمباری سے نشانہ بنایا گیا۔

المخا میں موزع اور خالد بن ولید کیمپ پر عرب اتحادی فوج کے طیاروں نے بمباری کی۔

یمنی سیکیورٹی فورسز نےلودر شہر میں رات آٹھ سے صبح چھ بجے تک کرفیو لگا دیا ہے۔ یہ کرفیو چوبیس گھنٹے قبل شدت پسند تنظیم القاعدہ کی طرف سے فوجی ہیڈ کواٹرز پر قبضے کی ایک ناکام کوشش کے بعد لگایا گیا ہے۔

یمنی وزیر اعظم احمد عبید بن دغیر کا کہنا ہے کہ حکومت دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں کسی تساہل کا مظاہرہ نہیں کرے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں