.

ٹرمپ خطے میں جنگ چھیڑ سکتے ہیں : مشیرِ پاسدارانِ انقلاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی پاسداران انقلاب کے مشیر برائے ذرائع ابلاغ و ثقافت حمید رضا مقدم فر نے توقع ظاہر کی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خطے میں جنگ چھیڑ سکتے ہیں جس کا مقصد ایران کا اس کے پڑوسی ممالک کے اندر رسوخ کم کرنا ہے۔

مقدم فر نے امریکی صدر کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ " اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ ایک دیوانہ اور سخت گیر انسان ہے جو انجام کی پرواہ کیے بغیر جنونی قسم کے اقدامات کرنے سے بھی نہیں ڈرتا۔ لہذا آج امریکی عوام یہ حقیقت جان چکے ہیں کہ انہوں نے ایک دیوانے کو منتخب کر لیا ہے جو چار برس تک وہائٹ ہاؤس کے در و دیوار میں گھومتا رہے گا"۔

ہفتہ 4 فروری کو روزنامہ "وطن امروز" میں شائع ہونے والے کالم میں مقدم فر نے اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ " امریکی صدر نے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ کامیاب میزائل تجربہ کرنے کے بعد تہران کی حرکات پر زیادہ گہری اور کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ ٹرمپ کے اس بیان سے سابق صدر باراک اوباما کے ان بیانات کی تصدیق ہو جاتی ہے جن کے مطابق ان کی میز پر تمام آپشن موجود ہیں"۔

ایرانی عسکری عہدے دار کے نزدیک ایرانی نظام کے حوالے سے واشنگٹن کی عام پالیسی عداوت پر مبنی ہے اس لیے کہ تہران امریکا کا پیروکار بننے سے انکار کرتا ہے اور خطے اور دنیا بھر کے عوام کو ظلم اور جبر سے آزاد کرانے کی بات کرتا ہے"۔

اس سے قبل ایرانی پاسداران انقلاب کے زیر انتظام فضائیہ کے کمانڈر امیر علی حاجی زادہ نے ہفتے کے روز امریکی افواج کو میزائل حملوں کا نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی۔ یہ دھمکی ایران پر نئی امریکی پابندیوں اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کے جواب میں سامنے آئی۔

پاسداران انقلاب کی قیادت کی جانب سے بیانات کا سلسلہ تہران کے خلاف نئی امریکی پابندیاں عائد کیے جانے اور امریکی صدر کی دھمکی کے بیچ سامنے آ رہا ہے۔ امریکی صدر نے دھمکی آمیز لہجے میں باور کرایا تھا کہ بیلسٹک میزائل کے تجربے کے بعد ایران کے خلاف عسکری کارروائی سمیت تمام آپشن زیر غور ہیں۔

توقع ہے کہ تہران کی جانب سے خطے میں دہشت گردی کی سپورٹ اور نیوکلیئر معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے میزائل تجربوں کو جاری رکھنے کی صورت میں ایران پر امریکا کے دباؤ میں اضافہ ہوگا۔ یہ میزائل تجربات سلامتی کونسل کی قراردادوں کی بھی کھلی خلاف ورزی ہیں جن میں اس نوعیت کے تجربات کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔