.

ہماری سرزمین سعودی عرب کے خلاف استعمال نہیں ہوگی : سوڈانی صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان کے صدر عمر البشیر کا کہنا ہے کہ انہوں نے سعودی فرماں روا شاہ سلمان (جب وہ ولی عہد تھے) کے ساتھ ملاقات میں اس بات سے آگاہ کر دیا تھا کہ "ہم سوڈان میں محسوس کرتے ہیں کہ یمن کی صورت حال ہمارے لیے خطرہ ہے"۔ العربیہ نیوز چینل کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ جب عسکری آپریشن "عزم کی آندھی" کا آغاز ہوا تو سوڈان نے برراہ راست طور پر متعدد جنگی طیاروں کے ساتھ اس میں شرکت کی جب کہ سوڈانی فوجی بھی اس وقت یمن کے شہر "عدن" کی سرزمین پر موجود ہیں۔

العربیہ نیوز چینل کے پروگرام "ترکی الدخیل کے ساتھ" میں گفتگو کرتے ہوئے عمر البشیر کا کہنا تھا کہ ان کا سعودی عرب کا آخری دورہ مملکت کے ساتھ جاری مشاورت کے سلسلے میں تھا۔ علاقائی صورت حال کے حوالے سے دونوں ملکوں کے مواقف میں مکمل اتفاق رائے ہے اور سیاسی ، اقتصادی ، عسکری اور سرمایہ کاری کے میدان میں باہمی تعلقات قابلِ ستائش ہیں۔

ایران کے حوالے سے عمر البشیر نے بتایا کہ دارالحکومت خرطوم میں ایرانی ثقافتی مرکز کے ذریعے شیعیت پھیلانے کی سرگرمیوں کا انکشاف ہوا اور ملک میں سنی شیعہ تنازع پیدا نہ ہونے دینے کے واسطے حکام مذکورہ ثقافتی مرکز کو بند کر دینے پر مجبور ہوئے۔ سعودی عرب کے پاس معلومات تھیں کہ سوڈان کی سرزمین سے مملکت کے خلاف سرگرمیاں جاری ہیں۔ البشیر نے باور کرایا کہ ہم اپنی سرزمین کو سعودی عرب کے خلاف کسی بھی طور استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔ سوڈان کے صدر کے مطابق صدام حسین کی حکومت کے سقوط کے بعد امریکیوں نے عراق میں ایک شیعہ ریاست قائم جس کے نتیجے میں ایران چار عرب ممالک کے دارالحکومتوں دمشق ، بیروت ، بغداد اور صنعاء پر کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔ البشیر کا کہنا ہے کہ ایران کے اور بھی "دیگر مقاصد" ہیں۔

مصر کے ساتھ تعلقات بالخصوص دونوں ملکوں کے درمیان مرکزی نقطہِ اختلاف "مثلث حلایب" (مصر اور سوڈان کی سرحد پر متنازع علاقہ) کے حوالے سے عمر البشیر نے دوٹوک انداز میں کہا کہ یہ مثلث سوڈان کا ہی رہے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ برطانوی اقتدار کے دور میں جب سوڈان کے اندر پہلے انتخابات ہوئے تو اس میں حلایب شامل تھا۔ اگر مصر نے اگر حلایب کے حوالے سے مذاکرات کے آپشن کو مسترد کر دیا تو سوڈان سلامتی کونسل سے رجوع کرے گا۔

مصری تنظیم الاخوان المسلمون کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے عمر البشیر نے واضح کیا کہ تنظیم کے کسی رہ نما کو سوڈان نے پناہ نہیں دی ہے۔ مصری صدر عبدالفتاح السیسی کے ساتھ ذاتی تعلقات نمایاں اہمیت کے حامل ہیں اور وہ اپنے تعلقات میں ایک کھرے آدمی ہیں۔ بعض سوڈانی حزب اختلاف کی شخصیات کو مصری انٹیلی جنس کی سپورٹ حاصل ہے۔ سوڈانی حکومت ہمیشہ سے قاہرہ سے مطالبہ کرتی رہی ہے کہ سوڈانی اپوزیشن کی سپورٹ روک دی جائے۔

لیبا کے حوالے سے عمر البشیر نے واضح کیا کہ ان کا ملک فایز السراج کی سربراہی میں قومی وفاق کی حکومت کو آئینی تسلیم کرتا ہے۔ البشیر نے لیبیا میں متحارب گروپوں کو ہتھیاروں کے ذریعے سپورٹ کرنے کی تردید کی۔

امریکی پابندیوں کے سلسلے میں عمر البشیر نے بتایا کہ ان پابندیوں میں بینک اور اسٹاک ایکسچینج شامل ہیں یہاں تک کہ امریکا کے دباؤ میں آ کر یورپ کے تمام بینکوں نے سوڈان کے ساتھ معاملات روک دیے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سوڈانی شہریوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی کے حوالے سے البشیر کا کہنا تھا کہ سوڈان اور امریکا کے درمیان پانچ نکاتی نقشہ راہ ہے۔ ان میں پہلا نکتہ دہشت گردی ہے۔ امریکیوں نے باور کرایا ہے کہ دہشت گردی کے نکتے پر پر پوری 100% کامیابی حاصل ہوئی ہے.. تاہم سوڈان کا نام ابھی تک دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والے ممالک کی فہرست میں موجود ہے لہذا اس سلسلے میں امریکی کانگریس کی قرارداد جاری ہونی چاہیے۔

عمر البشیر کے مطابق اس وقت سوڈان میں 2005 کا آئین نافذ العمل ہے جس میں صدر کے لیے دو مدتیں مقرر ہیں اور البشیر کی یہ دوسری مدت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دنیا میں کسی بھی دوسری جماعت کی طرح ان کی جماعت میں بھی اولین ترجیح پارٹی انتخابات ہیں۔ جماعت کے سربراہ کے چناؤ کے لیے ضوابط موجود ہیں جو جماعت کی طرف سے صدارتی انتخابات میں امیدوار ہوگا۔

سوڈان کے صدر عمر البشیر کا مکمل انٹرویو العربیہ نیوز چینل پر اتوار 5 فروری کو نشر کیا جائے گا۔