.

موصل کے قریب بم دھماکے میں ایرانی عسکری مشیر ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی پاسداران انقلاب نے شمالی عراق کی نینویٰ گورنری میں موصل کے قریب تل عفر کے مقام پر ایک ایرانی عسکری مشیر کی بم دھماکے میں ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

پاسداران انقلاب کے مقرب نیوز ویب پورٹل "باسیج نیوز" کی جانب سے پاسداران انقلاب کے شعبہ تعلقات عامہ کے ایک عہدیدار کا بیان نقل کیا گیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ملک کے مغربی شہر کرمانشاہ سے تعلق رکھنے والے ایک سینیر اہلکار حال ہی میں تل عفر کے مقام پر بم دھماکے میں ہلاک ہوگئے۔

نیوز ویب پورٹل کے مطابق موصل میں تل عفر کے مقام پر ایرانی عسکری مشیر خیراللہ احمدی کے ساتھ یہ حادثہ سڑک کے کنارے نصب بم پھٹنے سے پیش آیا جس کے نتیجے میں خیراللہ احمدی کی موت واقع ہوگئی۔

رپورٹ کے مطابق متقول ایرانی مشیر خیر اللہ احمدی ایرانی فوج کے نبی الاکرم بریگیڈ کی ’حنین‘ یونٹ سے وابستہ تھا اور اسے کچھ عرصہ قبل عراق میں مزارات اہل بیت کے دفاع کے لیے بھیجا گیا تھا۔

تلعفر میں ایرانیوں کی موجودگی کا انکشاف

شمالی عراق کے شہر موصل میں عراقی فوج گذشتہ برس اکتوبرکے بعد شدت پسند گروپ ’داعش‘ کے خلاف جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔ داعش کی سرکوبی کی آڑ میں ایران نواز عراقی شیعہ ملیشیا ’الحشد الشعبی‘ بھی سرگرم ہے۔ تل عفر میں الحشد الشعبی کے جنگجوؤں کے ساتھ ساتھ ایرانی فوجیوں کی بڑی تعداد بھی موجود ہے۔

تلعفر شہر عراق، شام اور ترکی کی سرحد پر واقع تزویراتی اعتبار سے اہم مقام ہے۔ ایران اس شہر میں اپنی مداخلت اس لیے بڑھا رہا ہے تاکہ شامی حکومت تک سامان کی سپلائی اور بحر متوسط اور اس کےساحل تک پہنچنے کی راہ ہموار کی جاسکے۔ تل عفر عراق سے اسد رجیم تک پہنچنے کے لیے ایران کی اہم ترین سپلائی روٹ ہے۔

ایران اپنی حمایت یافتہ عراقی شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی کو اس لیے علاقے میں مضبوط بنانے کے لیے کوشاں ہے تاکہ تل عفر شہر کو ہاتھ سے نہ نکلنے دیا جائے۔

حال ہی میں ایران نے القدس ملیشیا کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کے مشیر اعلیٰ جنرل ایرج مسجدی کو بغداد میں ایران کا نیا سفیر مقرر کرنے کے بعد اسے عراق بھیجا تھا۔

ایرج مسجدی کئی سال تل عراق اور شام میں پاسداران انقلاب کے ایک سینیر افسر کے طورپر سرگرم رہے ہیں۔ عراق میں شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی کی تشکیل میں بھی ایرج مسجدی کا کلیدی کردار سمجھا جاتا ہے۔