.

ایران کو دہشت گرد ریاست کہنے پر روس کا ٹرمپ سے عدم اتفاق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی ایوان صدر كرملن نے پیر کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس تجزیے سے اتفاق نہیں کرتا کہ ایران ایک دہشت گرد ریاست ہے۔

ٹرمپ نے فوکس نیوز کے ساتھ انٹرویو میں ایران کو دنیا میں "نمبر ایک دہشت گرد ریاست" قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ بہت سے مقامات پر اسلحہ اور مال بھیج رہا ہے۔ امریکی صدر کے مطابق جون 2015 میں طے پانے والا نیوکلیئر معاہدہ قطعی طور پر بد ترین "مذاکراتی" معاہدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ اس سے بہتر شکل میں بھی سامنے آ سکتا تھا۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ روسی صدر ولادیمر پوتن کا احترام کرتے ہیں تاہم ان کے احترام کا یہ مطلب نہیں کہ اتفاق رائے کا امکان بھی ضروری ہو۔ اس سوال کے جواب میں کہ آیا ٹرمپ پوتن کو "قاتل" قرار دے کر ان کا احترام کرتے ہیں.. امریکی صدر کا جواب تھا کہ " دنیا میں قاتلوں کی بڑی تعداد ہے ، کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ہم بے قصور ہیں ؟".

دوستیاں .. اور امریکا کی نئی پالیسی

امریکی اخبار "واشنگٹن پوسٹ" کے مطابق ٹرمپ کے یہ بیانات عرب دنیا میں ان کے دوستانہ تعلقات تو پیدا کر سکتے ہیں تاہم یہ ایران کے ساتھ ممکنہ تنازع کے رجحانات بھی رکھتے ہیں۔

اخبار کے نزدیک ٹرمپ کا دھمکی آمیز لہجہ اور تہران کو دی جانے والی مہلت امریکا کی نئی پالیسی کو ظاہر کرتی ہے جو ایران کے ساتھ نمٹنے کے حوالے سے اوباما کی پالیسی سے یکسر مختلف ہے۔

اس کے نتیجے میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی لوٹ آنے کو تقویت حاصل ہوگی جیسا کہ عراق میں بُش انتظامیہ کے وقت تھی۔ تاہم امریکی سکیورٹی ادارے کے ایک ذمے دار کے واشنگٹن پوسٹ کو دیے جانے والے بیان کے مطابق آج کا ایران اپنے میزائل نظام کو جدید بنانے اور خطے میں پھیلے اپنے حلیفوں کا نیٹ ورک قائم کرنے کے بعد پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مختلف ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق ایران کے ونگ اسرائیل کی سرحدوں سے لے کر جزیرہ نما عرب کے جنوبی حصے تک پھیلے ہوئے ہیں۔ اس مقصد کے لیے وہ لاکھوں مسلح ارکان پر مشتمل ملیشیاؤں کو کنٹرول کر رہا ہے۔ یہ مسلح عناصر شام ، عراق اور یمن میں لڑ رہے ہیں اور ان کو ایرانی پاسداران انقلاب کی سرپرستی حاصل ہے۔