یمنی صدر کا ایک ذاتی محافظ القاعدہ کے ہاتھوں ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی کے قریبی ذرائع نے معزول علی عبداللہ صالح پر الزام عائد کیا ہے کہ ابین صوبے میں القاعدہ تنظیم کو متحرک کرنے اور صدر ہادی کے ذاتی محافظ کی ہلاکت کے پیچھے سابق صدر کا ہاتھ ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ سب باغی ملیشیاؤں کے اس جانی اور مالی نقصان کا ردعمل ہے جو انہیں یمن کے مغربی ساحل پر اٹھانا پڑا ہے۔

اس سے قبل ابین صوبے میں سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ القاعدہ تنظیم کے ارکان نے یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی کے دو ذاتی محافظین میں سے ایک محافظ کرنل عبداللہ الخضر کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ الخضر کو اس وقت اغوا کر لیا گیا تھا جب وہ لودر قصبے میں چھٹی گزار کر واپس عدن لوٹ رہے تھے۔

یاد رہے کہ قبائلی ذرائع نے کچھ روز قبل بتایا تھا کہ "القاعدہ" تنظیم کے جنگجوؤں نے ملک کے جنوبی صوبے ابین میں 3 قصبوں لودر ، شقرہ اور عکد پر قبضہ کر لیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں