.

یمنی صدر کا ایک ذاتی محافظ القاعدہ کے ہاتھوں ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی کے قریبی ذرائع نے معزول علی عبداللہ صالح پر الزام عائد کیا ہے کہ ابین صوبے میں القاعدہ تنظیم کو متحرک کرنے اور صدر ہادی کے ذاتی محافظ کی ہلاکت کے پیچھے سابق صدر کا ہاتھ ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ سب باغی ملیشیاؤں کے اس جانی اور مالی نقصان کا ردعمل ہے جو انہیں یمن کے مغربی ساحل پر اٹھانا پڑا ہے۔

اس سے قبل ابین صوبے میں سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ القاعدہ تنظیم کے ارکان نے یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی کے دو ذاتی محافظین میں سے ایک محافظ کرنل عبداللہ الخضر کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ الخضر کو اس وقت اغوا کر لیا گیا تھا جب وہ لودر قصبے میں چھٹی گزار کر واپس عدن لوٹ رہے تھے۔

یاد رہے کہ قبائلی ذرائع نے کچھ روز قبل بتایا تھا کہ "القاعدہ" تنظیم کے جنگجوؤں نے ملک کے جنوبی صوبے ابین میں 3 قصبوں لودر ، شقرہ اور عکد پر قبضہ کر لیا ہے۔