مقبوضہ بیت المقدس کے مکینوں پر صہیونی ریاست کی نئی قدغنیں

غاصبانہ تسلط کے نت نئے حربوں سے فلسطینیوں کی زندگی اجیرن ہوگئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

اسرائیلی ریاست کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کے فلسطینی باشندوں کےخلاف انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ نہ صرف جاری ہے بلکہ آئے دن قابض ریاست کی طرف سے فلسطینیوں پر نئی نئی پابندیاں عاید کرکے ان پر عرصہ حیات تنگ کیا جا رہا ہے۔

حال ہی میں ذرائع ابلاغ نے صہیونی ریاست کی ایک نئی انتقامی کارروائی کا انکشاف کیا ہے اور بتایا ہے کہ اسرائیلی عدالت کے حکم پر بیت المقدس کے سلوان قصبے میں رہائش پذیر خاندانوں کے آٹھ ’سیونگ بنک’اکاؤنٹس بند کر دیے گئے ہیں اور یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ اقدام ان کی جانب سے بطن الھویٰ کالونی میں بنائے گئے مکانات کے کرایوں کی عدم ادائی پر کیا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حال ہی میں بیت المقدس کی مجسٹریٹ عدالت نے یہودی توسیع پسندی میں سرگرم ’عطیرت کوھنیم‘ تنظیم کی اپیل پر آٹھ گھروں میں رہائش پذیر فلسطینی خاندانوں کے سیونگ بک اکاؤنٹس بند کردیے۔اس تنظیم کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ مذکورہ آٹھ مکانات اس کی ملکیت ہیں اور ان میں بسنے والے فلسطینیوں کی حثیت کرایہ دار کی ہے مگر انہوں نے کئی سال سے کرایہ ادا نہیں کیا ہے۔

مقامی فلسطینی ذرائع نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو بتایا کہ اسرائیلی عدالت کا فلسطینیوں کے بنک کھاتے بند کرنے کا فیصلہ مقامی فلسطینی آبادی پر قدغنیں لگانے کے ظالمانہ اقدامات کا حصہ ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جن شہریوں کے اکاؤنٹس بند کیے گئے ہیں وہ گذشتہ آٹھ سال کے دوران کرائے کی مد میں چھے لاکھ 52 ہزار شیکل کی رقم ادا کرچکے ہیں۔

نیز بطن الھویٰ کی اراضی کی ملکیت کا معاملہ ابھی تک اسرائیل کی اعلیٰ عدالتوں میں زیر سماعت ہے مگر اس کے باوجود مجسٹریٹ عدالت نے دویک خاندانوں کے اکاؤنٹس خفیہ طور پر بند کردیے ہیں اور اس حوالے سے دویک خاندان کے کسی فرد یا ان کے وکیل کو بھی نہیں بتایا گیا۔

مقامی فلسطینیوں کے مطابق اسرائیلی تنظیم ’عطیرت کوھنیم‘ کا دعویٰ ہے کہ بطن الھویٰ کی پانچ دونم اور 200 مربع میٹر اراضی سنہ 1881ء میں یہودیوں کی ملکیت میں تھی۔ اسرائیلی سپریم کورٹ اس سے قبل ایک کیس میں اس اراضی کو یہودیوں کی ملکیت قرار دے کر اس پربنائے گئے فلسطینیوں کے مکانات کے مکینوں کو کرایہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔ گذشتہ کئی سال سے خمیس، الیاس، مازن، ان کی اہلیہ اور نبیل اپنے مکانات کے کرائے ادا کررہے ہیں۔

وادی حلوہ انفارمیشن سینٹر کےڈائریکٹر جواد صیام نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صہیونی تنظیم کا ہدف سلوان میں 30 مکانات پر قبضہ کرنا اور ان میں بسنے والے فلسطینیوں کے بنک اکاؤنٹس سیل کرانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سنہ 1978ء میں قائم کی گئی یہودی تنظیم ’عطیرت کوھنیم‘ کا اصل مقصد ہی بیت القدس میں یہودی توسیع پسندی کو فروغ دینا اور فلسطینیوں کی اراضی اور املاک کو جعلی دستاویزات کے ذریعے غصب کرنا ہے۔ یہ تنطیم وادی گولان میں رہنے والے ماتییاھو ھاکوھین اور بیت ایل یہودی کے یہودی ربی شلومو آفنیر نے مل کر بنائی تھی جسے ہردور میں اسرائیلی حکومتوں کی بھی مکمل سرپرستی حاصل رہی ہے۔

گذشتہ برس اسرائیل کی سپریم کورٹ نے فلسطینی املاک پر قبضے کا جواز فراہم کرنے کے لیے ایک عدالتی فیصلہ جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ متروکہ املاک کا قانون کا اطلاق مشرقی بیت المقدس میں فلسطینیوں کی ان جائیدادوں اور اراضی پربھی ہوتا ہے جن کے مالکان مقبوضہ مغربی کنارے میں آباد ہیں۔ فلسطینی حلقوں نے صہیونی ریاست کے اس فیصلے کو انتہائی خطرناک اور فلسطینیوں کی اراضی اور دیگر املاک پر قبضہ کرنے کی ظالمانہ سازش قرار دیا تھا۔

تنظیم آزادیِ فلسطین (پی ایل او) نے اسرائیلی سپریم کورٹ کے فیصلے کو قانونی ڈاکہ قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کردیا تھا۔ ایک بیان میں پی ایل او کی طرف سے کہا گیا تھا کہ اسرائیلی عدالت کا قانون نسل پرستی، چور بازاری اور فلسطینیوں کی املاک پر غاصبانہ قبضے کی بدترین کوشش ہے۔

ماضی میں اسرائیل نے سنہ 1950ء میں قانون املاک متروکہ منظور کیا۔ اس قانون کا مقصدعبرانی ریاست کے تسلط میں آنے والے ان فلسطینی شہروں میں موجود فلسطینیوں کی املاک پر قبضہ کرنا تھا جنہیں زبردستی ان کے علاقوں سے نکال دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ ان عرب شہریوں کی املاک جو فلسطین چھوڑ کر دوسرے ملکوں میں آباد ہوگئے تھے ان کی جائیدادوں کو اسرائیل کی سرکاری ملکیت قرار دینا تھا۔ بعد ازاں اس قانون کا اطلاق سنہ 1967ء کی جنگ میں قبضے میں لیے گئے فلسطینی علاقوں پر بھی کیا جانے لگا اور بیت المقدس کے باشندے آج اسی کالے قانون کے کلہاڑے کے وار سہہ رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں