دنیا کی بلند ترین ریتلی چوٹی کا نظارہ کیجیے!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

دنیا کی بلند ترین پہاڑی چوٹیوں کے بارے میں تذکرہ اکثر آتا ہے مگر دیکھنے کی جگہ فلک بوس پہاڑ ہی نہیں بلکہ بلند ترین کہساروں کے ساتھ دنیا میں ریت کی بھی بلند ترین چوٹیاں پائی جاتی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے دنیا کی بلند ترین گھنی ریت کی چوٹی کی ایک ویڈیو نشر کی ہے جو سیر وسیاحت کے دل دادہ افراد کے لیےنہایت دلچسپی کی حامل ہے۔

العربیہ چینل کے فلیگ شپ پروگرام’عرب کے نقوش قدم پر‘ کے میزبان اور محقق ڈاکٹر عبدا الیحیٰی نے بتایا کہ دنیا کی بلند ترین ریتلی چوٹی سلطنت آوف اومان کے قریب شمالی رملہ کے پہاڑی سلسلوں کے میں واقع ہے۔ یہ ریتلی بلند ترین چوٹیاں دراصل کئی چوٹیوں کا ایک سلسلہ ہے جو سطلنت اومان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور یمن کے درمیان واقع ہیں۔

ریت کی بلند ترین چوٹی سطح سمندر سے 455 میٹر بلند ہے۔ اس کے بعد دوسری بلند ترین ریتلی چوٹی نامیبیا میں ہے جس کی بلندی 418 میٹر بتائی جاتی ہے۔

ڈاکٹر عبدالیحییٰ نے ربع الخالی کے علاقے میں رہنے والے بنی کثیر قبیلے کی شاخ قبلیہ آل مسن کے ایک گروپ کے ساتھ بلند ترین ریتلی چوٹی کی سیر کی۔

سلطنت آف اومان میں دنیا کی بلند ترین چوٹی کا سفر کافی مشکل، طویل اور صبر آزما ہے۔ ڈاکٹر عبدالیحیٰی اور ان کے ساتھیوں نے 7 انتہائی طاقت ور پجیرو گاڑیاں لیں اور الشصر کے مقام سے ریت کے غبار میں ریتلی پہاڑیوں کا سفر شروع کیا۔ الشصر پرانی عمارتوں کی وجہ سے مشہور قصبہ اور رتیلی چوٹیوں کی طرف سفر کے لیے ’بیس کیمپ‘ کی حیثیت رکھتا ہے

بحر عرب کی البلید اور سمھرم بندرگاہوں سے سڑک کےر استے الشصر تک پہنچا جاسکتا ہے۔ الشصر سے آگے کا راستہ ریت سے اٹا رہتا ہے اور اکثر وہاں پر ریت کے طوفان اٹھتےاور ریت کے ڈھیر اپنی جگہیں بدلتے رہتے ہیں۔

درحقیقت اس علاقے کا سفر اس قدر مشکل اور صبر آزما ہے کہ ناواقف افراد کے لیے وہاں جانا بہت مشکل ہے۔ریت کی وجہ سے راستوں کا نام نشان تک نہیں ہوتا۔ ریت ہر وقت متحرک ریتی ہے اور ریت کے ٹیلے کبھی بلند ہوتے اور کبھی بیٹھتے رہتے ہیں۔

ڈاکٹر یحییٰ کے قافلے کے قیادت ایک مقامی شہری بخیت مسن نے کی۔ انہوں نےسمندر کی لہیروں سے ریت کے ٹیلوں کی طرف سفر شروع کیا۔ چونکہ وہ راستے کی نشانات اور دیگر علامات سے اچھی طرح آگاہ تھے۔ اس لیے انہیں آگے بڑھنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔

اس سفر میں سالم مسن نے ان کی مدد کی۔ اس نے بتایا کہ ربع الخالی میں ہر مشہور جگہ کے عجیب وغریب قصبے کہانیاں مشہور ہیں۔ باتوں باتوں میں ہم ریت کے ایک سے دوسرے ٹیلے کو عبور کرتے۔ اس دوران ریت کے طوفان کے درمیان فوارے کی شکل میں ابھرتے میٹھے پانی کے چشمے کے پاس پہنچے۔ ریت کے ٹیلوں کے درمیان پانی کے چشمے کی موجودگی حیرت انگیز تھی۔ پانی کا یہ چشمہ مقامی حکومت نے کھدائی کے بعد نکالا ہے اور وہاں تک مقامی آبادی کے سوا اجنبی لوگ کم ہی پہنچ پاتے ہیں۔

ڈاکٹر عبدالیحیٰ اور ان کے ساتھیوں کا خیال تھا کہ یہ ریت بہت آسان ہے مگران کے ہم رکاب تجزیہ نگار سالم مبارک نے بتایا کہ سنہ 1984ء میں ریتلے علاقوں کی سرحدوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ ریت سے خوف زدہ نہیں۔ وہ ریت کو اس طرح جانتے ہیں جیسے کوئی کتاب جس کا ہرصفحہ ان کی اپنی تالیف ہو۔ وہ پورے راستے میں ریت کی پیچیدگیوں رب الخالی کے علاقوں الحباک، السیح اور دوسرے مقامات کے بارے میں دلچسپ واقعات بھی بیان کرتے رہے۔

ڈاکٹر عبدالیحییٰ نے بتایا کہ 10 سال کی مسلسل چھان پھٹک اور تحقیق کے بعد ربع الخالی کے قریب واقع اس رتیلی چوٹی کو دنیا کی بلند ترین ریت کی چوٹی قرار دیا گیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلا شبہ انہوں نے ریت کی بلند ترین چوٹی تک پہنچنے کا اعزاز حاصل کیا ہے مگر مہم جو سیاحوں اور تحقیق کاروں کے لیے اس چوٹی کو سرکرنا کوئی مشکل نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ قعد جدیلہ نامی یہ ریتلی چوٹی پوری دنیا کی ریت کی بلند ترین چوٹی ہے جس کی سطح سمندر سے اونچائی 455 میٹر ہے۔ اس کے بعد نامیبیا اور چین کی بلند رتیلی چوٹیاں دوسری بلند ترین ریتلی چوٹیاں ہیں۔قعد الجدیلہ کی بلند ترین چوٹی تک پہنچنے میں کم سے کم تین گھنٹے لگتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں