شام میں جنگ بندی کی نگرانی کا لائحہ عمل 90% مکمل

مکمل اتفاق رائے تک بات چیت جاری رکھنے سے اتفاق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام میں جنگ بندی کے ضامن ایران، روس اور ترکی پر مشتمل اہم اجلاس کل قزاقستان کے دارالحکومت آستانہ میں ہوا، جس میں فریقین نے جنگ بندی کی نگرانی کے لیے مشترکہ لائحہ عمل مرتب کرنے پرغور کیا۔ اجلاس میں پہلی بار اردن کے نمائندوں نے بھی شرکت کی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق آستانہ میں شام میں جنگ بندی کو موثر بنانے کے حوالے سے ہونے والے اجلاس کا مقصد ضامن ملکوں کے درمیان جنگ بندی کی مانیٹرنگ کا متفقہ لائحہ عمل مرتب کرنا تھا۔ ایک سفارتی ذریعے کا کہنا ہے کہ شام کے حوالے سے کل سوموار کے روز ہونے والا اجلاس کامیاب رہا اور تمام فریقین جنگ بندی کی مانیٹرنگ کا 90 فی صد لائحہ عمل تیار کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ مزید دس فی صد شرائط طے کرنے کے لیے بات چیت جاری رکھنے سے اتفاق کیا گیا ہے۔

گذشتہ روز روسی وزیرخارجہ سیرگئی لافروف نے آستانہ اجلاس میں شام کے بحران کے حل کے لیے جنیوا میں ہونے والے مجوزہ اجلاس کے حوالے سے بھی بات چیت کی گئی ہے۔

اجلاس میں شرکت کرنے والے روسی جنرل اسٹانسلاؤ جادجی محدوف نے کہا کہ آستانہ اجلاس میں ترکی، روس، ایران اور اقوام متحدہ کے ماہرین نے شرکت کی۔ اجلاس میں شام میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنے پرغور کیا گیا۔ چھ گھنٹے تک جاری رہنے والے اجلاس میں پہلی بار اردن کے مندوبین نے بھی شرکت کی ہے۔

اردنی حکومت کے ایک ذمہ دار حکومتی عہدیدار نے بتایا تھا کہ آستانا میں ہونے والے شام بارے مذاکرات میں اردن کا ایک وفد بھی شرکت کرے گا۔ اردنی عہدیدار کا کہنا تھا کہ آستانہ مذاکرات تکنیکی نوعیت کے ہیں میں روس، ایران، ترکی اور اقوام متحدہ کے مندوبین شرکت کررہے ہیں۔

اردنی حکومت کے ذریعے نے شناخت ظاہر نہ کرنےکی شرط پر بتایا کہ اردن کے مندوبین آستانہ میں دو روز سے جاری اجلاس میں شریک رہے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اردنی حکومت شام میں قیام امن،سیاسی استحکام اور امن وامان کی خاطر اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں