فلسطینی اراضی پر ڈاکا ڈالنے کا نیا صہیونی حربہ

فلسطینیوں کی نجی اراضی صہیونی ریاست کے لیے مباح قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

اسرائیل نے ایک نئے مسودہ قانون کی منظوری دی ہے جس کے تحت مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی نجی اراضی غصب کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ دوسری جانب فلسطینی اتھارٹی نے صہیونی ریاست کے نئے قانون کو فلسطینی اراضی پر ڈاکا ڈالنے کی سازش قرار دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق تنظیم آزادی فلسطین(پی ایل او) کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی نجی اراضی غصب کرنے کا اسرائیلی قانون اس بات کا عکاس ہے کہ صہیونی حکومت فلسطین، اسرائیل تنازع کے دو ریاستی منصفانہ حل کی ہر پرامن کوشش کو تباہ کررہی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ فلسطینیوں کی نجی اراضی پر قبضے کا قانون اور یہودی آباد کاری کے تسلسل جیسے اقدامات امن مساعی کو تباہ کررہے ہیں۔

فلسطینیوں کی نجی اراضی غصب کرنے اور ان پر یہودی آباد کاروں کے لیے مکانات تعمیر کرنے کے متنازع قانون پر اسرائیلی کنیسٹ میں گذشتہ روز رائے شماری کی گئی۔ رائے شماری کے دوران 60 ارکان نے قانون کی حمایت اور 52 نے اس کی مخالفت میں ووٹ دیا۔ قانون کی منظوری کے بعد عالمی برادری کی طرف سے بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں