.

ایرانی مداخلت کے حوالے سے سعودی عرب اور ترکی کے مواقف میں مطابقت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر کا کہنا ہے کہ سعودی ترکی کوآرڈی نیشن کونسل کا پہلا اجلاس تعمیری اور مفید رہا۔

انقرہ میں اپنے ترک ہم منصب کے ساتھ پریس کانفرنس میں الجبیر نے بتایا کہ شام ، عراق اور خطے میں ایران کی مداخلتوں کے حوالے سے سعودی عرب اور ترکی کے مواقف میں مکمل مطابقت پائی جاتی ہے۔

الجبیر کے مطابق مذکورہ کوآرڈی نیشن کونسل مختلف شعبوں میں تعلقات کو مضبوط بنانے پر کام کر رہی ہے جو دونوں بردار ملکوں اور ان کے عوام کے مفاد میں اہمیت کے حامل ہیں اور ہم خطے کی دو سب سے بڑی معیشتوں کے درمیان مزید تعاون کے خواہاں ہیں۔

سعودی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعاون قائم ہے جس کو "مضبوط بنانے کی کوشش کی جار ہی ہے" تاکہ یہ بین الاقوامی امن و امان کے کام آ سکے۔ شام کے حوالے سے الجبیر کا کہنا تھا کہ ہم شام کی یک جہتی اور خود مختار کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے باور کرایا کہ سعودی عرب کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کو ایک "دہشت گرد تنظیم" شمار کرتا ہے اور اس کے مقابلے کے لیے ترکی کو سپورٹ کرتا ہے۔

عادل الجبیر کے مطابق شام میں ایران اور حزب اللہ کی مداخلتوں نے وہاں کے حل کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ آستانہ بات چیت کے نتیجے میں فائر بندی مضبوط ہوگی۔

دوسری جانب ترک وزیر خارجہ مولود چاوش اوگلو کا کہنا ہے کہ "یہ ضروری ہے کہ ہم سب پر واضح کر دیں کہ ہمارا تعلق بہترین نوعیت کا ہے جس کا مطلب ہے کہ ہم ضروری فیصلے کوآرڈی نیشن کے ساتھ کریں گے"۔

اوگلو نے مزید کہا کہ " ہمارے مشترکہ مفادات ہیں ، اس واسطے ہم پر لازم ہے کہ بہتر طور پر باہمی ہم آہنگی پیدا کریں۔ اس اجلاس میں ہم نے جو فیصلے کیے ہیں وہ کافی اہم ہیں اور آئندہ اجلاسوں میں ہم ان سے مستفید ہوں گے"۔ انہوں نے اعلان کیا کہ صدر رجب طیب ایردوآن سعودی عرب اور خلیجی ممالک کا دورہ کریں گے۔

اوگلو نے بتایا کہ ترکی داعش کا مقابلہ کرنے کے لیے سعودی عرب اور امریکا کے ساتھ تعاون کرے گا۔ تاہم انہوں نے واضح کر دیا کہ اس شدت پسند تنظیم سے نمٹنے کے واسطے ان کا ملک "دہشت گرد تنظیموں" کی معاونت ہر گز نہیں حاصل کرے گا۔