.

ترک فوج اور شامی باغیوں نے الباب شہر کا گھیراؤ کر لیا

ترک فوج کے فضائی حملوں ،گولہ باری اور جھڑپوں میں داعش کے 58 جنگجو ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک فوج نے کہا ہے کہ شامی باغیوں نے اس کی مدد سے داعش کے زیر قبضہ الباب شہر کے ارد گرد تزویراتی اہمیت کی حامل پہاڑیوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ اس دوران ترک فوج کے فضائی حملوں ،توپ خانے سے گولہ باری اور جھڑپوں میں داعش کے اٹھاون جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ دو ترک فوجی بھی مارے گئے ہیں اور پندرہ زخمی ہوگئے ہیں۔

ترک فوجیوں اور شامی باغیوں نے منگل کی رات اس علاقے میں داعش کے خلاف کارروائی شروع کی تھی۔ ترک وزیر خارجہ مولود شاوس اوغلو نے انقرہ میں نیوز کانفرنس میں بتایا ہے کہ شامی باغیوں اور ترکی کے خصوصی دستوں نے شام کے شمالی علاقوں میں داعش کے خلاف لڑائی میں نمایاں پیش قدمی کی ہے۔انھوں نے بتایا کہ ترک فورسز اور شامی باغیوں کا اب اگلا ہدف داعش کا مضبوط گڑھ الرقہ ہوگا۔

شامی فوج بھی صوبہ حلب میں واقع الباب شہر کی جانب بڑھ رہی ہے جس کے پیش نظر ترک فوج اور شامی فوج کے درمیان محاذ آرائی کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔

شامی باغیوں کے ایک عہدہ دار اور ایک مانیٹرنگ تنظیم کا کہنا ہے کہ ترک فوجیوں اور باغیوں نے پیش قدمی کرتے ہوئے الباب کے مغربی حصے پر قبضہ کر لیا ہے۔یہ علاقہ ترکی کی سرحد سے تیس کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔

اس علاقے میں گذشتہ ہفتے داعش کے خلاف لڑائی کے لیے ترک فوج کی کمک بھی بھیجی گئی تھی۔واضح رہے کہ ترک فوج نے گذشتہ سال اگست میں شام کے سرحدی علاقے میں داعش کے خلاف مہم شروع کی تھی اور الباب شہر ترک فوج کے حملے کا ایک اہم ہدف رہا ہے کیونکہ وہ علاقے میں داعش کی سرکوبی کے علاوہ امریکا کی حمایت یافتہ کرد ملیشیا کو بھی مزید پیش قدمی سے روکنا چاہتی ہے۔

دوسری جانب شامی فوج اور اس کی اتحادی ملیشیا نے بھی اپنے طور پر گذشتہ چند ہفتوں سے الباب کی جانب پیش قدمی جاری رکھی ہوئی ہے۔گذشتہ ہفتے شامی فوج نے شہر کی جانب جانے والی ایک شاہراہ پر قبضہ کر لیا تھا اور یوں داعش کو شہر میں محصور کردیا تھا۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ ''ہم نہیں جانتے کہ داعش اس صورت حال سے نکل پائیں گے یا نہیں یا وہ تباہی کے دہانے پر ہیں''۔

ترکی کے سرحدی شہر غازی عنتاب میں مقیم شامی باغیوں کے ایک عہدہ دار نے ایک ویڈیو صحافیوں کو بھیجی ہے جس میں سلطان مراد دھڑے سے تعلق رکھنے والے تین شامی جنگجو بتا رہے ہیں کہ وہ الباب شہر کے اندر موجود ہیں اور وہاں سے گفتگو کررہے ہیں۔

ایک باغی کہہ رہا ہے کہ '' میں اس وقت الباب میں ہوں لیکن مرکز میں نہیں بلکہ اس کے نواح میں ہوں ۔اللہ کا شکر ہے کہ ہم اس جگہ تک پہنچ گئے ہیں''۔ اس کے پس منظر میں دھماکوں کی بھی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ تاہم فوری طور پر اس ویڈیو کے مصدقہ ہونے کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔رصدگاہ کے مطابق الباب میں گولہ باری سے چھے افراد ہلاک اور بارہ زخمی ہوگئے ہیں۔