.

حماۃ میں شامی اپوزیشن اور حکومت کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی اپوزیشن کے ایک مصدقہ ذریعے نے اطلاع دی ہے کہ حماۃ شہر میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان قیدیوں کے تبادلہ ہوا ہے۔ اپوزیشن نے دو سال سے زیرحراست خواتین کی رہائی کے بدلے میں اسد رجیم کی جیلوں میں قید اپنے کارکنوں کو رہا کرایا ہے۔

العربیہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق اپوزیشن کے ذریعے کا کہنا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کی کارروائی حماۃ کے نواحی علاقے میں قائم قلعہ المضیق میں کی گئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ شامی حکومت کی جیلوں سے رہائی پانے والوں میں خاتون سماجی کارکن رشا شربتجی اور اس کے پانچ بچے بھی شامل ہیں جو گذشتہ پانچ سال سے پابندل سلاسل تھے۔ اس کےعلاوہ دمشق، اس کے اطراف، ادلب، حلب اور دیر الزور سے تعلق رکھنے والے اپوزیشن کے حامی کارکن بھی رہا کرائے گئے ہیں۔

دوسری جانب اپوزیشن نے اگست 2013ء کو اللاذقیہ کے سلمیٰ قصبے سے علوی قبیلے کی کئی خواتین کو یرغمال بنا لیا تھا۔ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے تحت ان خواتین کو رہا کیا گیا ہے۔

قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ اپوزیشن کے زیراہتمام اسیران کی رہائی کے لیے سرگرم ایک گروپ کی کوششوں سے عمل میں لایا گیا۔ دوسری جانب سلمیٰ قصبے میں اسدی فوج کے آپریشن کنٹرول روم نے اس معاہدے کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ادارے ’آبزرویٹری‘ کے مطابق شامی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مجموعی طور پر قیدیوں کے تبادلے میں 112 خواتین کو بھی رہا کیا گیا ہے۔