.

ٹرمپ کا ایرانی پاسداران انقلاب کو دہشت گرد جماعت قرار دینے پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی ذمے داران کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایک تجویز پر غور کر رہی ہے جس کے نتیجے میں ایرانی پاسداران انقلاب کو ایک دہشت گرد جماعت قرار دیا جا سکتا ہے۔

مذکورہ ذمے داران نے بتایا کہ اس تجویز کے حوالے سے امریکا کی کئی ایجنسیوں کی رائے لی گئی ہے۔

پاسداران انقلاب علی الاطلاق سب سے طاقت ور ایرانی سکیورٹی ادارہ ہے جو کہ ایران کی معیشت کے بھی ایک بڑے حصے پر کنٹرول رکھتا ہے اور سیاسی نظام میں اس کا قوی رسوخ ہے۔

ایک غیرملکی نیوز ایجنسی کے مطابق یہ تجویز ایک ایگزیکٹو آرڈر کی شکل میں عمل درامد کے واسطے سامنے آ سکتی ہے جس کے تحت وزارت خارجہ کو ہدایات دی جائیں گی کہ ایرانی پاسداران انقلاب کو ایک دہشت گرد جماعت قرار دینے کے معاملے کو زیر بحث لائے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ٹرمپ کی جانب سے ایسے آرڈر پر دستخط کیے جائیں گے۔

وہائٹ ہاؤس نے منگل کی شام ایک مرتبہ پھر ایران کو خبردار کیا ہے۔ اس حوالے سے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا نام لے کرکہا گیا ہے کہ انہیں اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ وہائٹ ہاؤس میں صدر بدل چکا ہے اور نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف ہر طرح کا اقدام اٹھانے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ وہ ایران کے خلاف جو بھی مناسب ہوا فیصلہ کریں گے۔

وہائٹ ہاؤس کے ترجمان شون اسپایسر نے منگل کو ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ایرانی سپریم لیڈر کو یہ پتا ہونا چاہیے کہ وہائٹ ہاؤس میں حکومت بدل چکی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ ایران کی جانب سے بیلسٹک میزائل تجربات جوہری معاہدے کی خلاف ورزی ہی نہیں بلکہ معاہدے کی روح کی بھی خلاف ورزی ہے۔

وائیٹ ہاؤس کے ترجمان نے مزید کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے حوالے سے جو بھی مناسب ہوا اقدام کریں گے۔ صدر ٹرمپ ایران کی طرف سے معاہدوں کی خلاف ورزیوں کے بارے میں مزید کچھ نہیں سننا چاہتے۔ ایران خود کو دھوکا دے رہا ہے۔ اسے امریکا کی نئی حکومت اور اس کے عزائم کا اندازہ نہیں۔