.

عراقی حزب اللہ کا لیڈر نامعلوم حملہ آوروں کی فائرنگ سے ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کی شیعہ ملیشیا کتائب حزب اللہ ( حزب اللہ بریگیڈز ) کا سیکریٹری باسم الموسوی جنوبی شہر بصرہ میں نامعلوم افراد کے قاتلانہ حملے میں ہلاک ہوگیا ہے۔

عراقی سکیورٹی فورسز کے ایک جنرل رائد حمرانی نے مقامی ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ پک اپ ٹرک پر سوار حملہ آوروں نے باسم الموسوی کی گاڑی پر فائرنگ کی تھی جس سے وہ اور ان کا ایک ساتھی شدید زخمی ہوگیا تھا۔انھیں بصرہ کے ایک اسپتال میں منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسے ہیں۔

فوری طور پر کسی گروپ نے ان پر حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔ کتائب حزب اللہ بھی شیعہ ملیشیاؤں پر مشتمل اتحاد الحشد الشعبی میں شامل ہے۔ان کے جنگجو عراقی فورسز کے شانہ بشانہ سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے خلاف ملک کے شمالی علاقوں میں لڑرہے ہیں۔

کتائب حزب اللہ تنظیم سنہ 2010ء میں قائم کی گئی تھی۔اس کے لبنان کی طاقتور شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔انھیں ایران کی مالی اور عسکری امداد حاصل ہے اور ایرانی فوجی مشیر ہی ان کے جنگجوؤں کو تربیت دیتے ہیں۔ امریکا نے کتائب حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔