صالح کے خلاف عدالتی کارروائی یمن کی حکومت کرے گی : احمد عسیری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی وزیر دفاع کے مشیر اور یمن میں عسکری آپریشن میں مصروف عمل عرب اتحادی افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل احمد عسیری نے باور کرایا ہے کہ معزول یمنی صدر علی عبداللہ صالح کو آئینی حکومت کے خلاف بغاوت میں شامل ہونے کے الزام میں عدالتی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے یہ بات جمعرات کے روز روس کی دو نیوز ایجنسیوں "Sputnik" اور "Novosti" کے ساتھ خصوصی بات چیت میں کہی۔

عسیری کے مطابق علی عبداللہ صالح یمنی شہری ہے جس پر بین الاقوامی پابندیاں عائد کی گئیں اور وہ یمن میں مجرمانہ کارروائیوں کا ارتکاب کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یمن میں آئینی حکومت اپنے شہریوں کی ذمے دار ہے لہذا صالح کے خلاف عدالتی کارروائی یمنی قوانین کے تحت عمل میں آئے گی۔

عسیری نے واضح کیا کہ عرب اتحاد یمن میں انقلاب کو سپورٹ کرنے والے تمام گروپوں کو ایک شمار کرتا ہے جنہوں نے ملک کو المیے کے خوف ناک گڑھے میں پہنچا دیا۔

سعودی وزیر دفاع کے مشیر کے مطابق صدر عبد ربہ منصور ہادی کے زیر قیادت یمنی حکومت اس وقت ملک کی 85% اراضی پر کنٹرول رکھتی ہے.. باغیوں کا صنعاء اور صعدہ کے بعض علاقوں کے سوا کہیں رسوخ نہیں پایا جاتا۔

صنعاء سے بیلسٹک میزائل کے ذریعے ریاض شہر کو نشانہ بنانے کے دعوے سے متعلق سوال پر عسیری کا کہنا تھا کہ " میں اس نوعیت کے جھوٹے پروپیگنڈوں پر تبصرہ نہیں کرتا۔ مملکت یا آپریشن کے مقامات پر جو کچھ پیش آتا ہے اس کے حوالے سے عرب اتحاد کا سرکاری بیان جاری ہوتا ہے۔ ہمارے پاس میڈیا میں لفظی جنگ کے لیے وقت نہیں ہے"۔

عرب اتحاد کے ترجمان نے بتایا کہ "ابھی تک حوثی ملیشیاؤں نے سعودی عرب پر 38 بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔ ان سب کا ذکر عرب اتحاد کی عسکری قیادت کے سرکاری بیانات کے ذریعے کیا جا چکا ہے۔ ان میں سے اکثر میزائل ناکام ہو کر یمنی اراضی میں ہی گر جاتے ہیں اور شہریوں کی زندگیوں کے لیے خطرہ بن جاتے ہیں"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں