.

مقتدیٰ الصدر کے حامیوں کا پُرتشدد مظاہرہ ، ایک افسر سمیت 6 افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے دارالحکومت بغداد میں شعلہ بیان شیعہ رہ نما مقتدیٰ الصدر کے حامیوں اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں ایک سکیورٹی افسر سمیت چھے افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

بغداد شہر کے میئر کا کہنا ہے کہ پُرتشدد مظاہرے کے دوران جھڑپوں پانچ افراد ہلاک اور 320 زخمی ہوگئے ہیں۔زخمیوں میں متعدد سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔پولیس نے صدری تحریک کے مظاہرے میں شریک افراد کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے پھینکے ہیں اور مظاہرین نے جواب میں پتھراؤ کیا ہے۔

العربیہ نیوز چینل کے نمائندے کی اطلاع کے مطابق صدری تحریک کے ہزاروں کارکنان اور حامیوں نے ہفتے کے روز دارالحکومت بغداد کے انتہائی سکیورٹی والے علاقے گرین زون کی جانب مارچ کیا اور اس کے گھیراؤ کی کوشش کی ہے۔

مظاہرین حکومت سے آیندہ ستمبر میں ہونے والے صوبائی انتخابات سے قبل انتخابی اصلاحات کا مطالبہ کررہے تھے۔ واضح رہے کہ مقتدیٰ الصدر کے حامی گذشتہ سال بھی قلعہ نما گرین زون کی جانب اپنے مطالبات منوانے کے لیے دو مرتبہ دھاوا بول چکے ہیں اور انھوں نے پارلیمان کا بھی گھیراؤ کیا تھا لیکن وزیراعظم حیدر العبادی ان کے تمام مطالبات کو پورا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

مقتدیٰ الصدر کے ہزاروں حامی بغداد میں مظاہرے میں شریک ہیں۔
مقتدیٰ الصدر کے ہزاروں حامی بغداد میں مظاہرے میں شریک ہیں۔
پولیس اور صدری تحریک کے حامیوں کے درمیاں جھڑپ کا ایک منظر ۔
پولیس اور صدری تحریک کے حامیوں کے درمیاں جھڑپ کا ایک منظر ۔