.

داعش کے خلاف مصری فوج کی معاونت پر پانچ افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں داعش کی شاخ نے پانچ افراد کو فوج کی معاونت کے الزام میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

انٹرنیٹ پر جنگجو گروپوں کی سرگرمیوں کی نگرانی کرنے والے سائٹ انٹیلی جنس گروپ کی اطلاع کے مطابق داعش نے جمعے کو پیغام رسانی کی ایپلی کیشن ٹیلی گرام پر متعدد تصاویر جاری کی ہیں۔ان میں وہ پانچ افراد کا فوج کے ''عناصر'' کے طور پر تعارف کرارہے ہیں۔وہ دو زانو حالت میں بیٹھے ہیں اور ان کے چہرے زمین کی جانب ہیں۔انھیں ایک جنگجو آتشیں رائفل سے سر کے پچھلی جانب گولیاں مار کر ہلاک کر دیتا ہے۔

واضح رہے جزیرہ نما سیناء میں جنگجوؤں نے مصر کے پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی جولائی 2013ء میں برطرفی کے بعد سے سکیورٹی فورسز کے خلاف جنگ برپا کررکھی ہے اور وہ آئے دن فوج اور پولیس اہلکاروں پر حملے کرتے رہتے ہیں۔مصری حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں اب تک سیکڑوں سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔

اسرائیل اور غزہ کی پٹی کے ساتھ واقع سرحدی صوبے شمالی سیناء میں مختلف جنگجو گروپ سکیورٹی فورسز پر حملے کر رہے ہیں۔ان میں سب سے نمایاں داعش سے وابستہ جنگجو گروپ صوبہ سیناء ہے۔اس کے جنگجو ملک کے دوسرے شہروں میں بھی سکیورٹی فورسز پر حملے کرتے رہتے ہیں۔

مصری فوج نے جمعے کے روز اعلان کیا تھا کہ اس نے ستمبر 2015ء میں جزیرہ نما سیناء میں سکیورٹی آپریشن کے آغاز کے بعد سے ''500 دہشت گردوں'' کو ہلاک کردیا ہے لیکن وہ ابھی تک شورش پسندی پر مکمل طور پر قابو پانے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔

داعش نے اکتوبر 2015ء میں روس کے ایک مسافر طیارے کو سیناء میں دوران پرواز بم سے تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔اس واقعے میں طیارے میں سوار تمام 224 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ ان میں زیادہ تر روسی سیاح تھے جو مصر کے ساحلی مقام شرم الشیخ سے واپس سینٹ پیٹرز برگ جا رہے تھے۔