.

شامی اپوزیشن جنیوا اجلاس مشترکہ مذاکراتی کمیٹی کی تشکیل پر متفق

اپوزیشن کے نمائندہ دھڑوں کا سعودی عرب میں اجلاس کا آج دوسرا دور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں جاری بحران کے حل کے سلسلے میں جنیوا میں اقوام متحدہ کی زیرنگرانی 20 فروری کو ہونے والے مذاکرات میں شرکت کے لیے شامی اپوزیشن نے متفقہ مذاکراتی وفد تشکیل دینے پر اتفاق کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق چوتھے جنیوا اجلاس کے انعقاد سے 10 روز پہلے شامی اپوزیشن کا ایک اہم اجلاس کل سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ہوا جس میں شام کی سپریم مذاکراتی کونسل، شامی نیشنل الائنس کے ارکان کے ساتھ ساتھ عسکری تنظیموں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

ریاض میں شامی حزب اختلاف کے اجلاس کے دوران جنیوا میں ہونے والے مجوزہ مذاکرات کو کامیاب بنانے پرغور وخوض کیا گیا۔

حزب اختلاف کے ایک اہم عہدیدار نے بتایا کہ کل جمعہ کو ریاض میں ہونے والے اجلاس میں شامی اپوزیشن کے تمام دھڑوں نے جنیوا مذاکرات میں حصہ لینے کے لیے مشترکہ مذاکراتی وفد تشکیل دینے سے اتفاق کیا ہے۔

اپوزیشن کے نیشنل الائنس کے رکن ھشام مروہ نے ’الحدث‘ ٹیلی ویژن سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سعودی عرب کی میزبانی میں شامی اپوزیشن کا اجلاس آج ہفتے کے روز بھی جاری رہے گا۔ تاہم اس اجلاس کے حتمی فیصلوں کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اجلاس میں شریک تمام دھڑوں، سیاسی اور انقلابی گروپوں نے جنیوا میں ہونے والے مذاکرات کے لیے مشترکہ وفد تشکیل دینے سے اتفاق کیا ہے۔

اپوزیشن کی جانب سے تجویز پیش کی گئی ہے کہ جنیوا اجلاس کے دوران وہ شام میں پرامن انتقال اقتدار اور پہلے جنیوا اجلاس میں طے کردہ نکات پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا جائے گا۔

قبل ازیں آستانا میں ہونے والے مذاکرات میں شامل شامی اپوزیشن گروپوں کے مشترکہ مندوب محمد علوش نے کہا تھا کہ جمعہ اور ہفتہ کے ایام میں سعودی عرب میں ہونے والے اجلاس میں اپوزیشن کے تمام دھڑے شرکت کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ شامی حزب اختلاف خود کومتحد رکھتے ہوئے آئندہ کے مذاکراتی مراحل کے لیے یکساں موقف اپنانے اور متفقہ مذاکراتی وفد تشکیل دینے کی کوشش کررہی ہے۔

تین تین نمائندوں پر مشتمل وفد کی تجویز

قبل ازیں شامی نیشنل الائنس کے شعبہ اطلاعات کے سربراہ احمد رمضان نے اخبار ’الشرق الاوسط‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اپوزیشن کے تمام دھڑے تین تین ارکان پر مشتمل افراد کو مشترکہ مذاکراتی وفد میں شامل کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے ماسکو اور قاہرہ کے پلیٹ فارم کو بھی شریک مذاکرات کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ آستانا مذاکرات میں شامل عسکری گروپوں کے تین، نیشنل الائنس کے تین اور سپریم مذاکراتی کونسل کے تین نمائندوں کو جنیوا مذاکرات میں بھیجا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماسکو اور قاہرہ کو جنیوا مذاکرات میں شامل کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ شامی اپوزیشن کے تمام دھڑوں کو باہم متحد رکھا جاسکے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم ریاض میں ہونےوالے اجلاس کے حتمی فیصلے پر عمل درآمد کے بھی پابندی کریں گے۔

احمد رمضان کا کہنا تھا کہ شام میں جاری بحران کے حل کے لیے عسکری انقلابی فورسز کے نمائندوں کی مذاکرات میں شرکت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ عسکری گروپوں کی نمائندگی کے لیے کسی موزوں شخصیت کا انتخاب کیا جاسکتا ہے۔ بریگیڈیئر اسعد الزعبی بھی اہم کردار ادار کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شامی اپوزیشن اور اقوام متحدہ کے امن مندوب اسیٹفن دی میستورا کے درمیان کھلے رابطے ہیں۔ اس کے علاوہ اپوزیشن سعودی عرب، ترکی اور قطر کو بھی اعتماد میں لے گی۔

شامی اپوزیشن کو روس دورے کی دعوت

ادھر دوسری جانب روسی حکومت نے جمعرات کو باضابطہ طورپر شامی نیشنل الائنس کے سربراہ انس العبدہ کو ماسکو کے دورے کے دعوت دی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق انس العبدہ کو ماسکو دورے کی دعوت دینے کا مقصد شام میں جاری بحران کے حل کے سلسلے میں سیاسی عمل کو آگے بڑھانا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ نیشنل الائنس نے روس کی دعوت قبول کرلی ہے اور جلد ہی ایک وفد کو روس بھیجا جائے گا۔

روس کی دعوت پر ماسکو کے دورے کے لیے نیشنل الائنس کے نائب صدر عبدالاحد اسطیفو، سیاسی شعبے کے رکن بدر جاموس اور دیگر ارکان پر مشتمل وفد بھیجا جاسکتا ہے۔