.

موصل: امریکا کا داعش کے اہم کمانڈر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی فوج کی جانب سے کل جمعہ کے روز جاری کردہ ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اتحادی فوج نے عراق کے شہر موصل کے قریب شدت پسند تنظیم ’داعش‘ کے فرانسیسی نژاد کمانڈر رشید قاسم کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا ہے تاہم اس حملے میں جانی نقصان کے حوالے سے معلومات اکٹھی کی جارہی ہیں۔

قبل ازیں خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ نے بھی ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ امریکا قیادت میں اتحادی طیاروں نے موصل کے قریب داعش کے ایک ٹھکانے پر بمباری کی ہے جس میں فرانسیسی شہریت رکھنے والے رشید قاسم نامی داعش کے اہم کمانڈر کی موجودگی کی بھی اطلاعات تھیں۔

امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان میجر اڈرین جیے، ٹی رانکین گیلوی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ داعشی کمانڈر رشید قاسم پر کیے گئے حملے کے نتائج مرتب کیے جا رہے ہیں۔ جلد ہی اس حملے کی حتمی رپورٹ سامنے آجائے گی۔

جمعہ کے روز فرانسیسی ذرائع ابلاغ نے خبر دی تھی کہ داعشی کمانڈر رشید قاسم کو موصل میں اتحادی فوج کے ایک فضائی حملے میں ہلاک کردیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ داعشی کمانڈر رشید قاسم دہشت گردی کی کئی کارروائیوں میں ملوث بتایا جاتا رہا ہے۔ گذشتہ برس 13جون کو فرانس کے ایفلین صوبے میں ایک پولیس اہلکار اور اس کی خاتون ساتھی کو ہلاک کرنے، 26 جولائی کو سین مارٹییم کے مقام پر سینٹ اٹین ڈو روفری چرچ میں حملے کی منصوبہ بندی کا الزام عاید کیا گیا۔

اس کے علاوہ اس پر الزام ہے کہ اس نے داعش میں شامل ہونے والی لڑکیوں کا ایک گروپ پیرس میں خود کش دھماکوں کے لیے بھیجا اور انہیں بارود سے بھری ایک کار بھی فراہم کی تھی۔

یہ اطلاعات بھی آئی ہیں کہ رشید قاسم 2012ء کو داعش میں شمولیت کے لیے فرانس سے نکل گیا تھا۔ وہ مواصلاتی رابطوں کے ذریعے فرانس میں دہشت گردی کی کارروائیوں کو کنٹرول کرتا رہا ہے۔