.

اردنی ہواباز کو زندہ جلائے جانے کا کب معلوم ہوا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

داعش تنظیم کے ایک سابق کمانڈر ابو مصعب الاردنی نے اردن سے تعلق رکھنے والے ہواباز معاذ الکساسبہ کو زندہ جلا دینے کی کارروائی کی تفصیلات کا انکشاف کیا ہے۔ تنظیم نے 13 فروری 2015 کو معاذ کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔

ابو مصعب نے جو معاذ کو جلائے جانے کی کارروائی کا عینی شاہد بھی تھا یہ تفصیلات "العربیہ" نیوز چینل پر جمعے کی شام نشر ہونے والی ایک دستاویزی فلم کے دوران بتائیں۔

ابو مصعب نے واضح کیا کہ اس موقع پر پیشہ ورانہ صلاحیت کے افراد نے جدید ترین آلات کے ذریعے پوری کارروائی کو فلم بند کیا۔

اس نے مزید بتایا کہ داعش کا میڈیا سیل تنظیم کے جنگجوؤں اور معاذ کی نقل حرکت اور چلنے پھرنے کے مناظر کو کیمروں کی آنکھ میں محفوظ کر رہا تھا۔

ابو مصعب کے مطابق "مذکورہ وڈیو میں ساتھ ہی ساتھ یہ بھی دکھایا گیا کہ لڑاکا طیاروں کا ہوا باز معاذ اپنی فضائی کارروائیوں میں کس طرح شہریوں کو موت کی نیند سُلاتا تھا۔ اس کا مقصد یہ پیغام پہنچانا تھا کہ معاذ کے جلائے جانے پر کوئی اس پر رحم نہ کھائے کیوں کہ وہ خود بم باری سے شہریوں کو جھلسا دیتا تھا "۔

ابو مصعب نے یہ بھی انکشاف کیا کہ " اردنی ہواباز کو اپنے جلائے جانے سے کچھ دیر قبل اس کارروائی کا معلوم ہوا جب اسے پنجرے میں رکھ کر اس پر پٹرول چھڑکا گیا"۔

اس موقع داعش کا رکن ابو محمد العدنانی نمودار ہوا تاکہ آگ جلا کر معاذ کو زندہ جلانے کا عمل پورا کیا جائے۔ اس منظر نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔

ہمیشہ کی طرح داعش کی جانب سے جاری اس وڈیو میں بھی موت کے گھات اتارے جانے سے قبل مقتول کا اعترافی بیان شامل تھا۔ اعلی ٹکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے تیار کی جانے والی وڈیو میں اردنی ہواباز شام کے شہر الرقہ کے ایک میدانی علاقے میں نارنجی رنگ کے کپڑوں میں ملبوس نظر آرہا ہے۔ وڈیو میں کچھ دیر خاموشی چھائی رہی اور پھر معاذ کو پنجرے میں ڈال کر اس سے زندہ جلا دیا گیا۔