سعودی شہری کے چہرے کے گرد 20 ہزار شہد کی مکھیاں !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

کیا آپ نے کبھی اپنے چہرے کے گرد 20 ہزار شہد کی مکھیوں کو جمع کرنے کی کوشش کی ہے ؟ یقینا یہ ایک خطرناک امر نظر آتا ہے تاہم سعودی عرب کے صوبے جازان سے تعلق رکھنے والے شہری زہیر فطانی کا معاملہ مختلف ہے۔ فطانی نے شہد کی ملکہ مکھی کو قابو میں کر کے اپنے جسم پر رکھ دیا جس کے بعد چند ہی منٹوں میں اس پر شہد کی مکھیوں کا جم غفیر جمع ہو گیا اور فطانی کو متعدد زاویوں سے تصاویر بنوانے کا موقع ہاتھ آ گیا۔

فطانی کے مطابق شہد کی مکھیاں انفیکشن کے خلاف مدافعت رکھتی ہیں اور ان کا ڈنگ زیادہ اثر نہیں کرتا ہے۔ فطانی کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کے ذہن میں ایک خیال ہے جس کے ذریعے وہ گینز بک آف ریکارڈز میں داخل ہو سکتا ہے تاہم وہ ابھی اس کا انکشاف نہیں کرنا چاہتا ہے تاکہ اس کے عمل درامد سے قبل اس منصوبے کا خیال چوری نہ ہو جائے۔

زہیر فطانی 30 برسوں سے شہد کی مکھیاں پال رہا ہے۔ اس شوق کی ابتدا کرتے ہوئے اس نے 3 چھتے خرید کر اپنے ایک دوست کے پاس رکھوا دیے۔ اس کے بعد اس شہد کی مکھیاں پالنے کے موضوع پر معلومات کا مطالعہ کیا اور پھر اپنا ذاتی فارم قائم کر کے اس منصوبے کی وسعت دی۔

فطانی نے بتایا کہ اس کے پاس جازان میں 1200 مختلف چھتوں پر مشتمل ایک موبائل فارم ہے۔ فطانی کے مطابق شہد کی مکھیاں جن پھولوں سے غذا حاصل کرتی ہیں وہ مخصوص سیزن کے دوران ہوتے ہیں اور کسی ایک سیزن میں ان کا کِھلنا ممکن نہیں۔

فطانی کا کہنا ہے کہ شہد کی مکھی کی اوسط عمر 6 ماہ ہوتی ہے جب کہ ملکہ مکھی اپنی شاہی خوراک کے سہارے 6 برس یا اس سے زیادہ زندہ رہتی ہے۔

اقسام اور فوائد

شاہی خوراک کے بارے میں فطانی نے بتایا کہ یہ ایک سیال ہے جو کارکن مکھی ملکہ مکھی کی نمو کے ایک مخصوص دورانیے میں پیدا کرتی ہے۔ یہ انتہائی مہنگا سیال ہوتا ہے جو فی گرام 50 ریال میں فروخت کیا جاتا ہے۔ سعودی عرب سمیت پوری عرب دنیا میں اس کو تیار کرنے والوں کی تعداد بہت کم ہے۔ اس کی بنیادی وجہ فراہمی میں دشواری اور بلند نرخ ہیں۔

اس کے فوائد کے بارے میں فطانی نے واضح کیا کہ یہ اکثر اوقات مرد یا عورت کے بانجھ پن تولید کی اہلیت کے کمزور ہونے میں بڑا مفید ثابت ہوتا ہے۔

فطانی کے مطابق اس کے پاس مختلف نوعیت کے شہد ہوتے ہیں جن میں بیری کا شہد سب سے بہترین ہوتا ہے۔ یہ مختلف قیمتوں کا ہوتا ہے جن کا تعلق ان پھولوں اور درختوں کے مختلف ہونے سے ہے جن پر شہد کی مکھی غذا حاصل کرتی ہے۔ فطانی نے باور کرایا کہ شہد کی مختلف مہک اور ذائقے ہوتے ہیں اور یہ خصوصیت سونگھنے کے ذریعے شہد کی نوعیت جاننے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ شہد کی ہر قسم اپنی ایک خصوصی بُو رکھتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں