اسدی فوج کے مقتولین کے ورثاء کی تکریم، بسکٹ، گھڑی یا 95 ڈالر

’جانیں قربان کرنے والوں کے ورثاء کے ساتھ مذاق کیا گیا‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام میں حال ہی میں سرکاری سیٹلائیٹ چینل کی جانب سے باغیوں کے حملوں میں ہلاک ہونے والے ری پبلیکن گارڈز کے بعض اہلکاروں کے لواحقین کی تکریم کے لیے خصوصی پروگرام منعقد کیا گیا۔ اگرچہ اس پروگرام کا مقصد مقتولین کے ورثاء اور لواحقین کی حوصلہ افزائی کرنا تھا مگر اس پروگرام نے بشار الاسد کے حامیوں کو بھی ان کا مخالف اور ناقد بنا دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق بشار الاسد کی حکومت کے سرکاری ٹی وی چینل نے دمشق میں ایک تقریب منعقد کی جس میں ری پبلیکن گارڈز کے مقتول فوجیوں کے ورثاء کی تکریم کے لیے ان میں تحائف تقسیم کیے گئے۔ مسئلہ اس وقت بگڑا جب تحائف میں معزز مہمانوں میں انتہائی معمولی چیزیں تقسیم کی گئیں۔

تقریب میں شریک مہمانوں کو فی کس 50 ہزار لیرہ دیئے گئے۔ شام میں جاری لڑائی نے شامی لیرہ کی قیمت ڈالر کے مقابلے میں تحت ثریا تک پہنچا دیا ہے۔ یوں پچاس ہزار لیرہ کی امریکی کرنسی میں قیمت 95 ڈالر سے زیادہ نہیں۔

بعض مہمانوں کو اس سے بھی کم تر چیزوں پر ٹرخایا گیا۔ کچھ کو بسکٹ کا ایک پیکٹ، وال کلاک یا ایسی ہی کوئی دوسری چیز دے کر سرکاری مہمان نوازی کی گئی۔ یہ پروگرام ماضی میں مقتول باغیوں کی لاشوں کے ساتھ سیلفیاں کھنچوانے میں مشہور پروگرام پیش کار شادی حلوہ کی نگرانی میں منعقد ہوا۔

اس نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ فیس بک پر ان مقتول فوجیوں کی فہرست بھی جاری کی ہے جن کے ورثاء کو خصوصی تکریم کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ مقتول فوجیوں کا تعلق صدر بشار الاسد کے براہ راست ماتحت ری پبلیکن گارڈز سے تھا۔

تقریب میں مدعو کیے گئے مقتولین کے ورثاء کو انتہائی کم تر چیزیں دینے پر بشار الاسد کے وفادار حلقوں میں بھی سخت غم وغصہ پایا جا رہا۔ سوشل میڈیا پر انہوں نے اپنے غصے کا برملا اظہار بھی کیا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ سرکاری ٹی وی کی انتظامیہ کی طرف سے جانیں قربان کرنے والے فوجیوں کے لواحقین کی تکریم نہیں توہین کی گئی ہے۔ اگر تکریم کے طور پرلواحقین کو بسکٹ کا ایک پیکٹ یا وال کلاک ہی دینا تھی تو اس کی اتنی تشہیر کیوں کرکی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں