اسرائیلی وزراء نے اذان پر پابندی کے متنازعہ بل کی توثیق کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی وزراء نے مسلمانوں کی اذان پر پابندی کے مجوزہ متنازعہ بل کی توثیق کردی ہے۔اسرائیل میں آباد مسلمانوں کا کہنا ہے کہ اس بل کا مقصد اذان کی آواز کو خاموش کرانا ہے۔

اسرائیلی وزارت انصاف کی اطلاع کے مطابق وزراء کی بااختیار کمیٹی کے روبرو مجوزہ قانون سازی کے مسودوں کی ایک فہرست پیش کی گئی ہے اور اس نے ''عبادت گاہوں سے عوامی مخاطبہ نظاموں کے ذریعے شور کو روکنے کے بل'' کی منظوری دے دی ہے۔وزارت نے اس کی مزید تفصیل نہیں بتائی ہے۔

وزارتی کمیٹی کا اجلاس وزیر انصاف ایلیت شیکڈ کی صدارت میں اتوار کی شب ہوا تھا۔ان کا تعلق دائیں بازو کی انتہا پسند جماعت جیوش ہوم پارٹی سے ہے۔مجوزہ مسودے کی منظوری کے بعد اب اس کو پارلیمان میں ایک سرکاری بل کے طور پر پیش کیا جائے گا۔

اس بل کے عنوان میں کسی خاص مذہب کا حوالہ نہیں دیا گیا ہے لیکن یہ بل '' مؤذن لا'' کے نام سے معروف ہوا ہے کیونکہ مسلم مؤذنین طاقتور لاؤڈ اسپیکروں کے ذریعے اذان دیتے ہیں اور مساجد کے میناروں پر لگے لاؤڈ اسپیکروں سے ان کی آواز دور دور تک سنائی دیتی ہے۔

اس بل کا ابتدائی مسودہ اس بنا پر مسترد کردیا گیا تھا کہ اس سے یہود کی آبادی والے علاقوں میں جمعہ کی شام سائرن کی آوازوں پر پابندی لگ سکتی تھی۔یہ سائرن یہود کے لیے مقدس ہفتے یعنی یوم السبت کے آغاز پر بجائے جاتے ہیں۔

بل کے نظرثانی شدہ مسودے کے تحت اب ایمپلی فائر کے ذریعے بلند آوازوں پر مقامی وقت کے مطابق رات گیارہ بجے (2100 جی ایم ٹی) سے صبح سات بجے تک پابندی ہوگی۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی زد میں صرف نمازِ فجر کی اذان آئے گی۔ ابتدائی مسودے میں مسلمانوں کی پنج وقتہ نمازوں کی اذانوں پر پابندی کی تجویز پیش کی گئی تھی۔

اسرائیلی پارلیمان میں عرب اتحاد کے سربراہ ایمن عودہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''اس قانون کا شور یا معیارِ زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ یہ ایک قومی اقلیت کے خلاف نسل پرستانہ انگیخت ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''مؤذن کی آواز وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی نسل پرست حکومت سے بہت پہلے بھی سنی جاتی تھی اور اس کے بعد بھی سنی جاتی رہے گی''۔

اسرائیلی صدر ریووین رولین اس قانون کی مخالفت کرچکے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ شور کی آلودگی کے خلاف موجودہ قوانین بھی مسئلے کا حل فراہم کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ عرب اور مسلم دنیا میں اسرائیل کے اس مجوزہ قانون کی سخت مخالفت کی جارہی ہے۔اگر اسرائیلی پارلیمان اس قانون کی منظوری دے دیتی ہے تو اس کا اطلاق مقبوضہ بیت المقدس اور اسرائیل میں مساجد پر ہوگا لیکن ایک اسرائیلی عہدہ دار کے بہ قول اس کا مسلمانوں کے قبلہ اوّل مسجد الاقصیٰ پر اطلاق نہیں ہوگا۔

اس بل کو پیش کرنے والے رکن پارلیمان موٹی یوگیف کا تعلق بھی جیوش ہوم پارٹی سے ہے۔ان کا کہنا ہے کہ یہ قانون سازی ہزاروں غیر مسلم اسرائیلیوں کو روزمرہ زندگی میں شور سے متاثر ہونے سے بچانے کے لیے ضروری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں