شامی بحران کے خاتمے سے داعش کا قلع قمع ہوجائے گا: گوٹیریس

شامی بحران اقوام متحدہ کے دنیا پر اثر و رسوخ کے لیے ایک مشکل امتحان ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیریس نے کہا ہے کہ شام میں جاری بحران کے سیاسی حل سے سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے خاتمے کی راہ ہموار ہوگی۔

انھوں نے یہ بات العربیہ نیوز کے سسٹر چینل الحدث سے سوموار کے روز ایک خصوصی انٹرویو میں کہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ شامی بحران اقوام متحدہ کے دنیا پر اثرات کے لیے ایک مشکل امتحان ہے اور ان کے نزدیک مستقبل قریب میں مہاجرین کے بحران کا خاتمہ ہوتا نظر نہیں آرہا ہے۔

عالمی ادارے کے سربراہ نے کہا کہ شامی بحران کے ایک جامع سیاسی حل کی عدم موجودگی کی وجہ سے ہی داعش کو پھلنے پھولنے کا موقع ملا تھا ۔ انھوں نے الریاض میں شامی حزبِ اختلاف کی جانب سے جنیوا مذاکرات میں شرکت کے لیے وفد کی تشکیل پر خوش امیدی کا اظہار کیا ہے۔

انھوں نے یمن میں جاری بحران پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یمنی عوام اس وقت ناقابل قبول نامساعد حالات سے گزر رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ حکومت اور حوثی باغیوں کے درمیان بحران کا سیاسی حل تمام فریقوں کے لیے فائدہ مند ہونا چاہیے۔

انھوں نے واضح کیا کہ ایران کے مفادات کو خطے کے ممالک پر اثر انداز نہیں ہونا چاہیے۔

واضح رہے کہ ایران شامی تنازعے میں اہم کردار ادا کررہا ہے اور اس کے فوجی اور تربیت یافتہ شیعہ ملیشیاؤں کے جنگجو شامی صدر بشارالاسد کی فوج کے شانہ بشانہ باغی گروپوں کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ایران پر خطے کے ممالک یمنی تنازعے میں مداخلت اور حوثی ملیشیا کو مسلح کرنے کے الزامات عاید کرتے چلے آرہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ سلامتی کونسل کے رکن ممالک کے درمیان تقسیم سے کونسل کی عالمی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے صلاحیت متاثر ہوئی ہے۔

انھوں نے الحدث سے گفتگو کرتے ہوئے امریکا کی جانب سے فلسطین کے سابق وزیراعظم سلام فیاض کے لیبیا کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کی حیثیت سے تقرر کی مخالفت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

اسرائیل ،فلسطینی تنازعے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس تنازعے کا واحد حل ''دو ریاستی حل'' ہی ہے۔انھوں نے فلسطینی سرزمین پر اسرائیل کی یہودی آبادکاری کی سرگرمیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام امن کی راہ میں رکاوٹ ہے۔

انتونیو گوٹیریس ان دنوں خطے کے دورے پر ہیں۔وہ آج (سوموار کو) دبئی پہنچے ہیں جہاں انھوں نے عالمی حکومت کانفرنس (ورلڈ گورنمنٹ سمٹ) میں شرکت کی ہے۔انھوں نے اتوار کو سعودی دارالحکومت الریاض میں خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز ،وزیر خارجہ عادل الجبیر اور دوسرے سعودی عہدہ داروں سے ملاقات کی تھی۔

انھوں نے الحدث چینل سے گفتگو میں بتایا کہ ان کے خطے کے دورے کا مقصد خلیج تعاون کونسل ( جی سی سی) کے ساتھ اقوام متحدہ کے تعاون کو بڑھانا ہے۔انھوں نے خطے کے لیڈروں سے عراق اور لیبیا میں جاری تنازعات کے حل سے متعلق امور پر بھی گفتگو کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں