حافظ الاسد کے مجسمے کی تنصیب ، مذہبی شخصیات سے شرکت کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام میں "حماہ" صوبے کے گورنر نے تمام مذہبی شخصیات سے مطالبہ کیا کہ وہ پیر کے روز صدر بشار الاسد کے والد کے مجسمے کی نقاب کشائی کی تقریب میں شریک ہوں۔ یہ مطالبہ ایک سرکاری نوٹیفکیشن کے ذریعے عمل میں آیا جس پر 12 فروری کی تاریخ درج ہے۔

گورنر محمد عبداللہ الحزوری کی جانب سے ارسال کردہ نوٹیفکیشن میں صوبے کے مختلف سرکاری اداروں کو پابند کیا گیا کہ وہ پیر کی صبح ٹھیک ساڑھے نو بجے مذکورہ تقریب میں اپنی موجودگی کو یقینی بنائیں۔

اس نوٹیفکیشن کی ایک کاپی "حماہ" صوبے کے اوقاف ڈائریکٹوریٹ کو بھی ارسال کی گئی۔ اس کے متن میں یہ عبارت تحریر تھی کہ "برائے اطلاع ، اعلی مرتبت مذہبی شخصیات کو شرکت کی دعوت".. جیسا کہ سرکاری نوٹیفکیشن کے دائیں جانب نیچے ظاہر ہو رہا ہے۔

یاد رہے کہ بشار حکومت نے 2011 میں عوامی انقلابی تحریک شروع ہونے کے کئی ماہ بعد حماہ صوبے میں سابق صدر اور بشار الاسد کے والد کے مجسمے کو ہٹا دیا تھا۔ مجسمے کو ہٹا کر نامعلوم مقام پر منتقل کرنے کی وڈیو ابھی تک یوٹیوپ پر موجود ہے۔

شام میں انقلابی تحریک کے آغاز کے بعد انقلابی عناصر نے ملک کے مخلتف حصوں میں نصب بشار الاسد اور اس کے باپ کے مجسموں کو نشانہ بنا کر ان میں زیادہ تر کو گرا دیا تھا۔ بشار حکومت 2015 میں سقوط کے دہانے پر پہنچ چکی تھی تاہم اسی سال کے اواخر میں روس نے اپنے مفاد کی خاطر شام میں عسکری مداخلت کر دی۔ اس کے ساتھ ایران بھی بشار حکومت کو بچانے اور شامی عوام کے قتل عام اور بے دخلی کے واسطے شام میں اپنی ملیشیاؤں کے ساتھ گھس آیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں