شام کی تدمر جیل کے سابق قیدیوں نے خاموشی توڑ دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

عرب دنیا کے معروف نیوز چینل "العربيہ" نیوز پر خصوصی دستاویزی فلم " تدمر" پیش کی جا رہی ہے جو کسی بھی عرب چینل پر اپنی نوعیت کی پہلی کاوش ہے۔ فلم میں تدمر کی جیل میں کئی برس تک بدترین تشدد اور اذیت کا سامنا کرنے والے قیدیوں کے تجربات کو منفرد انداز سے بیان کیا گیا ہے۔

کچھ روز قبل انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے شام کی بدنام زمانہ "صيدنايا" جیل کے بارے میں ایک رپورٹ جاری کی تھی۔ رپورٹ کے لرزہ خیز انکشافات میں بتایا گیا تھا کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران بشار حکومت نے قید میں لیے گئے قیدیوں میں سے تقریبا 13 ہزار افراد کو موت کے گھاٹ اتارا۔

مذکورہ فلم "تدمر" کے پیش کاروں اور ہدایت کاروں نے ایک اور بدنام زمانہ "تدمر جیل" کے اندر کے خوف ناک احوال کی منظر کشی کی ہے۔ فیلم میں سابق لبنانی قیدیوں کے ایک گروپ نے بیروت کے ایک خالی اور غیر آباد اسکول کے اندر جیل تعمیر کی اور مختلف کرداروں کی تقسیم کی۔ ان میں قیدیوں کے علاوہ جیل کے ان خون خوار ذمے داروں کے کردار بھی شامل ہیں جنہوں نے برس ہا برس ان قیدیوں کے ساتھ اہانت آمیز برتاؤ کیا اور انتہائی بے رحمی سے ان کو تشدد اور اذیت کا نشانہ بنایا۔ جہاں ایک طرف فلم میں کرداروں کے ساتھ ڈرامائی تشکیل کی گئی ہے وہاں سابق قیدیوں کی شہادتوں پر مبنی بیانات کے ذریعے ان امور کی تصدیق و توثیق بھی سامنے آئی ہے۔

فیلم کے آغاز میں بیروت کے اسکول میں قیدخانہ بناتے ہوئے دکھایا گیا ہے جس کے بعد وہ جیل کا حقیقی ماحول پیش کرنے لگا۔

فلم میں نمودار ہونے والے افراد نے تدمر جیل میں 9 سے 14 برس کے درمیان کا عرصہ گزارا۔ ان افراد کی شہادتوں سے اس دل دہلا دینے والی سنگین صورت حال کی تصویر سامنے آتی ہے جس کا ان قیدیوں نے سامنا کیا۔ علی ابو دہن نے بتایا کہ کس طرح اسے کیڑے کھانے اور دو لقموں میں زندہ چڑیا نگلنے پر مجبور کیا گیا۔ سیف الدین کے مطابق اس نے اپنے ہاتھوں سے سیکڑوں میتوں کو کفن دیا۔ موسی صعب نے اپنے اعصابی نظام کے درہم برہم ہوجانے الماری کے اندر بند کیے جانے کے بعد تشدد کا نشانہ بننے کی کہانی سنائی۔

فلم کے آغاز میں پیش کاروں کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ تدمر جیل.. ظلم و استبداد پر قائم شامی حکومت کی سلطنت کے لیے "تاج کے موتی" کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس فلم کی تیاری اور شامی انقلاب کا بیک وقت ہونا کوئی اتفاق نہیں۔ لبنانی ان حالات سے بے خبر نہیں جن کا سامنا شامی عوام کو حافظ الاسد اور اس کے بیٹے کے ادوار میں کرنا پڑا ہے۔

اس فلم کو متعدد بین الاقوامی میلوں میں نمائش کے لیے پیش کیا گیا۔ اسے سوئٹزرلینڈ کے شہر نیون کے میلے میں اہم ایوارڈوں سے نوازا گیا جب کہ 2016 میں جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں منعقد میلے میں بہترین سیاسی فلم کا ایوارڈ ملا۔

یہ فلم "العربیہ" نیوز چینل پر دو حصوں میں جمعہ 17 اور ہفتہ 18 فروری کو گرینچ کے وقت کے مطابق رات 8 بجے پیش کی جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں