قاہرہ یونی ورسٹی میں کتوں کو زہر دینے کا سبب؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر میں قاہرہ یونی ورسٹی کے ذمے داران کی جانب سے یونی ورسٹی کے اطراف میں موجود کتوں کو زہر دینے کی مہم کی وڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر عوامی حلقوں میں شدید غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔

یونی ورسٹی کی ایک طالبہ کی جانب سے سامنے آنے والی وڈیو میں ایک کتے کو زہر دیتے ہوئے اور اس کی دُم کاٹتے ہوئے دکھایا گیا ہے یہاں تک کہ کچھ دیر بعد وہ دم توڑ گیا۔ اس وڈیو نے جانوروں کے حقوق کی تنظیموں اور سوشل میڈیا کارکنان کے اندر غصے کی آگ برپا کر دی جنہوں نے واقعے کے ذمے دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

قاہرہ یونی ورسٹی کے سربراہ ڈاکٹر جابر نصار نے اس وڈیو کے حوالے سے سرکاری طور پر معذرت پیش کی ہے۔ انہوں نے باور کرایا کہ اس امر پر معذرت ناگزیر ہے اور کوئی انسان بھی اس صورت حال کو قبول نہیں کر سکتا۔

ڈاکٹر جابر کے مطابق یونی ورسٹی کا رقبہ بہت بڑا ہے اور اس کے بہت سے دروازے ہیں جہاں سے داخل ہو کر اندر آجانے والے جانوروں کی تعداد میں بڑی حد تک اضافہ ہو گیا ہے۔ طلبہ و طالبات کی جانب سے کیمپس کے اندر ان جانوروں کی کثرت پر غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کتوں سے نمٹنے کے واسطے الجیزہ میں جانوروں کے طبی امور کی انتطامیہ سے رابطہ کیا گیا ہے۔ اس کے بعد ہی گمراہ کتوں سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے لیے انہیں زہر دینے کا طریقہ اپنایا گیا۔

ڈاکٹر جابر کا کہنا ہے کہ یہ اقدام جانوروں کے طبی امور کی انتظامیہ کے تحت ماہر ڈاکٹروں کے ہاتھوں انجام پایا اور یونی ورسٹی کے ذمے داران کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں