.

حاکم دبئی کا 24 گھنٹوں کو 84 گھنٹوں میں تبدیل کرنے کا راز!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کے عالمی تجارتی وسیاحتی مرکز دبئی کے حکمراں حاکم دبئی الشیخ محمد بن راشد کو ملک و قوم کی خدمت میں ہمہ وقت متحرک رہ نماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔ حال ہی میں انہوں نے ’العربیہ‘ سے بات کرتے ہوئے اس راز سے بھی پردہ اٹھایا کہ وہ اگرانہیں دن میں 24 کے بجائے 84 گھنٹے میسر آئیں تو وہ کیا کچھ کرسکتے ہیں؟

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق الشیخ محمد بن راشد اپنی صبح کا آغاز ورزش سے کرتے ہیں۔ اس کے بعد گھڑ سواری، موٹرسائیکل سواری، دفاتر کا دورہ، ملازمین سے ملاقاتیں، مختلف منصوبوں کے جائزے، لینے کے بعد امارات کی دوسری ریاستوں ابو ظہبی، دبئی اور دیگر شہروں کا وزٹ کرتے ہیں جہاں وہ اعلیٰ حکام کے ساتھ اجلاس منعقد کرتے اور جاری منصوبوں پر غور کے بعد کچھ وقت عام لوگوں کی خوشی غمی میں شریک ہوتے اور آخر میں کچھ وقت اپنے بچوں کے ساتھ گذارتے ہیں۔مگر وہ ایک ہی روز یہ سب کچھ کیسے ترتیب دے پاتے ہیں۔

یہی سوال العربیہ ڈات نیٹ کے صحافی ترکی الدخیل نے حاکم دبئی سے بین الاقوامی حکومتوں کی سربراہ کانفرنس سے شرکت کے دوران پوچھا کہ حاکم دبئی، متحدہ عرب امارات کے نائب صدر اور وزیراعظم 24 گھنٹوں کو 84 گھںٹوں میں کیسے تبدیل کرسکتے ہیں۔

تو انہوں نے مزاحیہ انداز میں جواب دیا کہ اگر ہمارے پاس، اماراتی حکام کے پاس اور اماراتی قوم کے پاس 84 گھنٹے ہوں تو ہم دبئی جیسے چار شہر آباد اور دو متحدہ عرب امارات بنا سکتےہیں۔

اس کے بعد الشیخ محمد بن راشد اپنی جگہ سے کھڑے ہوئے اور عوام سے خطاب کیا جس میں انہوں نے وقت کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ وقت سے زیادہ قیمتی کوئی چیز نہیں۔ وقت ہاتھ سے نکل جاتا ہے اور پھر واپس نہیں لوٹتا۔ ہم کیوں نا روزانہ کی بنیاد پر کوئی نئی چیز سیکھیں؟ وقت بہتے پانی کے دھارے کی طرح ہے۔ اگر ہم اسے چھوئیں گے نہیں تو وہ بہتا رہے گا۔ اس لیے ہمیں جسمانی ورزش کےلیے وقت نکالنے کے ساتھ تامل اورغور فکر کے لیے بھی وقت نکالنا ہوگا۔ میں اپنے وقت کا استعمال ملک و قوم کی بہود کے لیے غور پرگذارتا ہوں۔ میں سوچتا ہوں کہ آج کے دن میں قوم اور ملک کو کیا نئی چیز دے سکتا ہوں۔ یہ غور وفکرہمیں کوئی نا کوئی آئیڈیا دیتا ہے اور ہم سب مل کر اسے عملی شکل میں ڈھالنے کی محنت شروع کردیتے ہیں۔

اس کے بعد سب شرکاء جن میں امارات کے ولی عہد الشیخ محمد بن زاید آل نھیان بھی موجود تھے سے مخاطب ہوئے کہا کہ کہا کہ بھائی محمد! آپ جانتے ہیں کہ 50 فی صد آپ کی کامیابی اور 50 فی صد آپ کے مخالفین اور دشمنوں کی ناکامی ہے۔

خیال رہے پانچویں بین الاقوامی حکومتی سربراہ کانفرنس اتوار کے روز ریاض میں شروع ہوئی جس میں 150 ترجمانوں نے شرکت کی۔ اکانفرنس کے دوران 114 اجلاس ہوئے اور 139 ممالک کی 4000 شخصیات نے شرکت کی۔