.

اسد رجیم پر حلب میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسانی حقوق کی علمبردار عالمی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ شام کی سرکاری فوج نے گذشتہ برس کے آخر میں حلب شہر پر قبضے کی جنگ کے دوران باغیوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کا بے دریغ استعمال کیا تھا جس کے نتیجے میں انسانی جانوں کے ضیاع میں غیرمعمولی اضافہ ہوا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم کی طرف سےجاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 17 نومبر سے13 دسمبر 2016ء تک بشارالاسد کی ماتحت فوج جنگی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے حلب کی شہری آبادی پر ’کلور بموں‘ سے بمباری کرتی رہی ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ پر شامی حکومت کی طرف سے فوری طور پر کسی قسم کا رد عمل سامنے نہیں آیا اور نہ ہی کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر پابندی کی نگرانی کرنے والے عالمی ادارے کی طرف سے اس پر کوئی تبصرہ کیا گیا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ نے ایک ویڈیو رپورٹ میں شہریوں کے بیانات، تصاویر، سوشل میڈیا پر شائع ہونے والے بلاگز اور دیگر معلومات کی روشنی میں بتایا ہے کہ روسی فوج کے شامی شہریوں پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا کوئی ثبوت نہیں مل سکا تاہم شامی فوج نے حلب میں کیمیائی ہتھیاروں کا بے دریغ استعمال کیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق حلب میں شامی فوج کے ’کلور‘ بم سے ایک حملے میں چار بچوں سمیت نو شہری جاں بحق اور 200 زخمی ہوگئے تھے۔

تنظیم کے ایمرجنسی شعبے کے ڈپٹی ڈائریکٹر اولی سولفانگ نے بتایا کہ شامی فوج کی اگلی صفوں میں موجود فوجی اہلکار کیمیائی ہتھیاروں کا اس طرح استعمال کرتے جیسے وہ کارروائی کا لازمی حصہ ہے۔

خیال رہے کہ شامی فوج پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا الزام پہلی بار عاید نہیں کیا گیا۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں بار بار یہ دعویٰ کرتی چلی آرہی ہیں کہ اسدی فوج شام میں جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم کے ارتکاب اور ممنوعہ کیمیائی ہتھیاروں کا بےدریغ استعمال کررہی ہے۔ اس میں کلورگیس سے تیار کردہ بموں کا استعمال بھی شامل ہے۔

اس سے قبل اقوام متحدہ اور کیمیائی اسلحے کے استعمال کی پابندی کی ذمہ دار تنظیم نے اپنی رپورٹس میں بتایا تھا کہ سنہ 2014ء اور 2015ء کے دوران شامی فوج تین بار کلور گیس کے ذریعے باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں پرحملے کرچکی ہے جب کہ داعش نے بھی کیمائی گیس کے ذریعے متعدد بار حملے کیے ہیں۔

عالمی قوانین اور بین الاقوامی معاہدوں میں کلور گیس کا استعمال سختی سے منع کیا گیا ہے۔ سنہ 2013ء میں شام بھی اس معاہدے کا حصہ بنا جب کلو گیس کو ہائیڈرو کلوریک گیس میں تبدیل کرنے کا عمل شروع کیا گیا۔

شامی حکومت پر ایک ہفتے کے دوران انسانی حقوق کے اداروں کا یہ دوسرا بڑا وار ہے۔ چند روز پیشتر ایمنسٹی انٹرنیشنل ایک رپورٹ میں شامی فوج کے جنگی جرائم سے پردہ اٹھاتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ دمشق کے قریب صیدانیہ عقوبت خانے میں پانچ سال کے دوران 13 ہزار قیدیوں کو ماورائے عدالت پھانسی دی گئی تھی۔