.

’اسرائیلی عقوبت خانوں میں کیا کچھ ہوتا ہے، فلم نمائمش کے لیے پیش!

دستاویزی فلم میں زندانوں میں صہیونی جرائم کوبے نقاب کیا گیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے پہلی بار جرمن سینما سے مدد لی گئی ہے۔ اسرائیل عقوبت خانوں میں ڈالے گئے فلسطینیوں کو کس طرح کے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس موضوع پر ایک فلسطینی فلم پروڈیوس راید انضونی کی تیار کردہ دستاویزی فلم برلن میں منعقدہ فلمی میلے میں پیش کیا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جرمن میلے میں پیش کردہ دستاویزی فلم کی تیاری میں اسرائیلی جیلوں میں ماضی میں قید رہنے والے فلسطینیوں کے بیانات اور جیل کے تجربات بیان کیے گئے ہیں۔

’بھوتوں کا شکار‘ کے عنوان سے تیار کردہ یہ دستاویزی فلم برلن میں منعقدہ 67 ویں سالانہ فلمی میلے میں شامل کی گئی۔ فلم پروڈیوس راید انضونی خود بھی ماضی میں اسرائیلی زندانوں میں قید رہ چکا ہے۔ ہزاروں فلسطینی شہری اسرائیلی عقوبت خانوں میں کئی کئی سال تک پابند سلاسل رہ چکے ہیں اورہ جانتے ہیں کہ ان بھوت گھروں میں اسیران کے ساتھ کیا کچھ ہوتا ہے۔

دستاویزی فلم میں انسانی حقوق کی انجمنوں اور مندوبین کے بیانات بھی شامل کیے گئے ہیں۔ کیمرے کی مدد سے سابق فلسطینی اسیران کے ایک گروپ کے بیانات ریکارڈ کیے گئے ہیں جو کئی کئی سال تک اسرائیلی جیلوں اسیری کی کڑواہٹ برداشت کرچکے ہیں۔

دستاویزی فلم میں اسرائیل کی ’المسکوبیہ‘ نامی بدنام زمانہ جیل میں قیدیوں کےساتھ ہونے والی بدسلوکی اور تعذیب وتشدد کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ تفتیش کے دوران اسرائیلی تفیتش کارجس سفاکانہ طرز عمل کا مظاہرہ کرتے مسکوبیہ عقوبت خانہ اس کی زندہ مثال ہے۔

انضونی خود بھی تین سال تک صہیونی عقوبت خانوں میں قید رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسیری کے جس تجربے سے وہ گذرے تھے وہ انفرادی نوعیت کا نہیں بلکہ اجتماعی ہے اور تمام اسیران ایک ہی جیسے حالات کا سامنا کرتےہیں۔

المسکوبیہ حراستی مرکز میں ڈالے گئے قیدیوں کے بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی اسیری کا عرصہ الگ لگ ہے۔ بعض دوسری اور تیسری نسل سے تعلق رکھنے والے فلسطینی بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دوران حراست انہیں تنگ وتاریک مقفل کوٹھڑیوں میں ڈالا جاتا جہاں روشنی کی معمولی سی کرن کا بھی کوئی گذر نہیں ہوتا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ حراستی مرکز میں گذرے دن زندگی کے انتہائی خوف ناک روز ہیں جہاں سوائے تشدد اور کچھ نہیں ہوتا۔

راید انضونی نے خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سابق اسیران سے ملاقات اور ان کے بیانات کی ویڈیو ریکارڈنگ کے دوران انہوں نے نفسیاتی اطباء کی تنظیم کی معاونت بھی حاصل کی تھی۔ قیدیوں نےسب کے سامنے کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور اسیری کےایام پر روشنی ڈالی۔

المسکوبیہ اور دوسری حراستی مرکز میں رہنے والے سابق اسیران سیاسی بنیادوں پر گرفتار کیے گئے تھے اور انہیں بغیر کسی الزام کے پابند سلاسل رکھا جا رہا تھا۔ عدالتوں میں ان کے خلاف کسی قسم کا کوئی مقدمہ نہیں چلایا گیا۔

فلم میں ہرعمر کے سابق اسیران کو شامل کیا گیا۔ جن خاندانوں کے والدین اور بچے الگ الگ اوقات میں قید رہے ان کے بیانات بھی ریکارڈ کیے گئے۔

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ کی ایک رپورٹ بھی شامل کی گئی جس میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فورسز کی جانب سے کریک ڈاؤن کے دوران بچوں کی گرفتاریوں میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔ بچوں کی پکڑ دھکڑ ، ان کی مارپیٹ اور تشدد انہیں ہراساں اور خوف زدہ کرنے کی کوشش ہے۔

فلسطین اور اسرائیل میں ’ہیومن رائٹس واچ‘ کی خاتون ڈائریکٹر سارہ بشائی نے ایک رپورٹ میں بتایا کہ ’اسرائیلی زندانوں میں جو وحشیانہ ہتھکنڈے بڑی عمر کے قیدیوں کے خلاف استعمال کیے جاتے ہیں۔ بچوں سے بھی وہی حربے آزمائے جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں بچے شدید صدمے سے دوچار ہوتے ہیں‘۔

راید انضونی نے فلم کو اسیران کے لیے ایک تحفہ قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ فلم کی عکس بندی کے بعد اسرائیلی فورسز نے بعض سابق اسیران کو دوبارہ گرفتار کرلیا ہے۔