.

اسرائیل کے ناجائز تسلط کے خاتمے تک جدو جہد جاری رکھیں گے: محمود عباس

’ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہیں‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس نے کہا ہے کہ وہ نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آزاد اور مکمل طور پر خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام اور فلسطینی عرب شہروں پر اسرائیل کے غیرقانونی قبضے کے مکمل خاتمے تک جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اپنے ایک بیان میں کہا کہ صدر محمود عباس نے کہا کہ اسرائیل کو چار جون 1967ء کی جنگ سے پہلے والی پوزیشن پرجانا ہوگا۔ ہم ایک ایسی آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے کوشاں ہیں جس میں مشرقی بیت المقدس کو اس کے دارالحکومت کی حیثیت حاصل ہو۔ مشرق وسطیٰ میں دیر پا قیام امن کے لیے تنازع فلسطین کا حل ناگزیر ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کی طرف سے مغربی سرحدوں پر اپنا تسلط قائم رکھنے اور اسرائیل کو یہودی ریاست تسلیم کرنے کا مطالبہ کرنے کی کوشش مرضی کا فیصلہ مسلط کرنے، دو ریاستی حل کے آپشن کو تباہ کرنے اور ریاستی اصول کو نسل پرستانہ نو آبادیاتی نظام میں تبدیل کرنے کی کوشش ہے۔

فلسطینی ایوان صدر کی طرف سے جاری کردہ بیان میں اسرائیلی وزیراعظم پر زور دیا گیا ہے کہ وہ فلسطین میں یہودی آبادکاری روکنے کے عالمی مطالبے کا احترام کرے اور فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے اقدامات سے گریز کرے۔ بلا استثنیٰ تمام حل طلب مسائل کے جامع حل کے لیے بات چیت کرے، عالمی برادری کی قراردادوں اور سنہ 2002ء میں تیار کردہ عرب امن روڈ میپ کے فیصلوں اور تجاویز پر عمل درآمد کیا جائے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ تنازع فلسطین کے دو ریاستی حل کو تباہ کرنا، یہودی آباد کاری کا تسلسل اور طاقت کے ذریعے فلسطینیوں پر اپنے فیصلے مسلط کرنا انتہا پسندی، عدم استحکام اور تنازعات کی شدت میں مزید اضافہ ہوگا۔ دہشت گردوں کو اپنی کارروائیوں کا جواز ملے گا اور امن وامان کی تمام مساعی ناکامی سے دوچار ہوجائیں گی جس کی ذمہ داری اسرائیل پرعاید ہو گی۔