.

انتخابات اور دستور، جنیوا 4 اجلاس کے ایجنڈے میں سر فہرست

بشار الاسد کا سیاسی کردار قبول نہیں کریں گے: اپوزیشن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے لیے اقوام متحدہ کے امن مندوب اسٹیفن دی میستورا نے کہا ہے کہ آئندہ ہفتے جنیوا میں شام کے بحران کے حل کے سلسلے میں ہونے والے اجلاس کےایجنڈے میں کوئی ترمیم نہیں کی گئی۔ اس اجلاس کا سب سے اہم ایجنڈا شام میں قیام امن کے لیے سلامتی کونسل کی قراردادوں پرعمل درآمد کرنا اور لڑائی کا خاتمہ کرنا ہے۔ اس کے علاوہ ایجنڈے میں شام کے لیے نئے دستور کی تیاری اور انتخابات کے انعقاد پرغور بھی شامل ہوگا۔

دی میستورا کے بیان سے قبل شام کی سپریم مذاکراتی کونسل کے ترجمان سالم المسلط نے کہا تھا کہ اپوزیشن کو چوتھے جنیوا اجلاس کے ایجنڈے کی تفصیلات نہیں ملیں۔

سالم المسلط کے بیان کے بعد دی میستورا نے روم میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں کہاکہ اقوام متحدہ کی شام کے حوالے سے قرارداد 2254 میں تین بنیادی نکات پیش کیے گئے ہیں، حکومت کی تشکیل، نئے آئین پر اتفاق اور اقوام متحدہ کی زیر نگرانی شفاف انتخابات کا انعقاد جیسے نکات پر زور دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شامی اپوزیشن اگر یہ کہتی ہے کہ اسے جنیوا اجلاس کے ایجنڈے کا علم نہیں توایجنڈے میں یہی تین موضوعات سب سے اہم ہوں گے۔

فنی ماہرین کی آستانا روانگی

شامی اپوزیشن کی طرف سے جاری کردہ ایک ای میل پیغام میں بتایا گیا ہے کہ اپوزیشن اپنے ’فنی ماہرین‘ کو مذاکرات اور شام میں جنگ بندی کو موثر بنانے کے لیے آستانا روانہ کرے گی۔

آستانہ مذاکرات کل بدھ کے بجائے آج جمعرات 16 فروری کو ہوں گے مگر دوسری جانب جنیوا اجلاس کی تاریخ کا ابھی تک تعین نہیں کیا جاسکا ہے۔ شامی اپوزیشن کا کہنا ہے کہ چوتھے جنیوا اجلاس کی تاریخ کا اعلان اور ایجنڈے کی تفصیلات نہ ملنا حیران کن ہے۔

اقوام متحدہ کے مندوب کا کہنا ہے کہ جنیوا مذاکرات آئندہ ہفتے ہوں گے مگر وہ اس کی تاریخ کا اعلان نہیں کرسکے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ روس شام کے حوالے سے اپنے سابقہ بیانات اور پالیسی پر قائم ہے۔ ماسکو کی جانب سے جنیوا مذاکرات کے بجائے آستانا مذاکرات کو ترجیح دی جای رہی ہے۔ اس وقت روس کی کوشش شام میں دیر پا جنگ بندی کے قیام پر مرکوز ہے۔ کازکستان کےدارالحکومت آستانا میں دو روزہ مذاکرات میں بھی شام میں جنگ بندی کو توسیع دینے پر غور کیا جائے گا۔
عبوری دور اور مستقبل میں بشارالاسد کا کردار قبول نہیں۔

شامی مذاکراتی کونسل کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن موجودہ شامی رجیم کے سربراہ بشارالاسد کا عبوری دور اور مستقبل میں کوئی سیاسی کردار قبول نہیں کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ اگر بشارالاسد ہی اقتدار پر مسلط رہتے ہیں تو شامی قوم کی تمام قربانیاں رائیگاں جائیں گی۔