.

سابق قیدی ’تدمر‘ جیل میں 700 قیدیوں کو دفنانے کا عینی شاہد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

العربیہ پر جمعہ اور ہفتہ کی شام کو دو قسطوں میں نشر ہونے والی دستاویزی فلم میں شام میں سرکاری فوج کے زیرانتظام عقوبت خانوں میں ڈالے گئے سابق قیدیوں کے لرزہ خیز بیانات نے اسد رجیم کے مزید جنگی جرائم سے پردہ چاک کیا ہے۔

شام کی تدمر جیل میں کئی سال تک پابند سلاسل رہنے والے ایک سابق قیدی کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی آنکھوں سے جیل میں700 قیدیوں کو دفن کرتے دیکھا ہے۔ یہ تمام قیدی مختلف جیلوں میں بھوک، بیماریوں یا جیلروں اور تفتیش کاروں کے تشدد کے نتیجے میں جاں بحق ہوگئے تھے۔

’تدمر‘ کی جیل شام کی بڑی جیلوں میں سے ایک ہے۔ یہ جیل صحرائی شہر تدمر میں واقع ہے جس کا انتظام شامی فوج کے پاس ہے۔ تدمر شہر دمشق سے 200 کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے، جو تاریخی آثار قدیمہ وجہ سے مشہور ہے۔ اس شہر میں شامی فوج نے سنہ 1966ء میں جیل قائم کی۔ آغاز میں یہ جیل بھگوڑے فوجیوں کے لیے مختص تھی اور اس کی نگرانی پولیس کے ہاتھ میں تھی۔ سنہ 2001ء میں انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ’ایمنسٹی‘ کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ تدمرجیل مصائب، قیدیوں کی تذلیل اور خوف کی علامت ہے۔

چند روز قبل ’ایمنسٹی‘ کی جاری کردہ ایک دوسری رپورٹ میں دمشق کے قریب صیدانیا عقوبت خانے میں قیدیوں پر ڈھائے جانے والے لرزہ خیز واقعات کا انکشاف کیا اور بتایا گیا کہ شامی فوج صیدانیا جیل میں پانچ سال کے دوران 13 ہزار قیدیوں کو موت کےگھاٹ اتار چکی ہے۔

العربیہ پیش کی گئی دستاویزی فلم’تدمر‘ پروڈیوسر مونیکا بورغمان اور لقمان سلیم کی مشترکہ کاوش ہے۔ تدمر کی جیل اسد رجیم کے چہرے پر دوسرا بدنما دھبہ ہے۔ اس جیل میں قیدیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی وجہ سے یہ عقوبت خانہ بھی بری طرح بدنام ہے۔ حال ہی میں لبنان سے تعلق رکھنے والے قیدیوں کے ایک گروپ نے خاموشی توڑتے ہوئے تدمر جیل میں پیش آنے والے واقعات سے پردہ اٹھایا تھا۔

بھوک سے مٹانےکے لیے کیڑے اور زندہ چڑیاں کھانا پڑتیں

سابق قیدیوں نے بتایا کہ انہیں جب کسی گاڑی پر ڈال کر ایک سے دوسری جیل میں لے جایا جاتا تو انہیں اندازہ ہوجاتا کہ انہیں کہا لے جایا جا رہا ہے۔ جب گاڑی صحرا میں چلتی تو قیدی سمجھ لیتے کہ انہیں تدمر کےعقوبت خانے لے جایا رہا ہے۔ اگر گاڑی صحرا کے علاوہ کسی دوسرے علاقے کی طرف جاتی تو قیدی مزید شک اورخوف کا شکار ہوتے، وہ سمجھتے کہ ہوسکتا ہے کہ انہیں قتل کرنے کے لیے کسی خفیہ ٹھکانے پر متنقل کیا جا رہا ہو۔

سابق اسیران کے بیانات کے مطابق جب قیدیوں کو آدھی رات اور رات کے آخری پہر بلایا جاتا تو اس کا مطلب اس کی موت کی تیاری ہوتی۔ بعض اوقات ان اوقات میں قیدیوں کو ایک سے دوسری جیل لے جایا گیا۔

دستاویزی فلم میں دکھائے گئے سابق اسیران میں 9 سے 14 سال شام کی تدمرجیل میں قید رہنے والے افراد شامل ہیں۔سابق اسیران کی طرف سے جیل میں شامی فوج کے جرائم کی تصویر کشی نہایت بھیانک اور خوف ناک ہے۔

علی ابو دھن نامی ایک سابق اسیر کا کہنا ہے کہ زندی بچانے کے لیے وہ کیڑے کھاتے اور زندہ چڑیوں کو پکڑنے کی کوشش کرتے۔ سیف الدین سعد الدین نے کہا انہوں نے اپنے ہاتھوں سے 700 قیدیوں کو کفن پہنایا۔